عثمانیہ یونیورسٹی میں طلبا تنظیموں کا احتجاجی مظاہرہ

   

حیدرآباد۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے تحفظ اور وائس چانسلر کے تقرر کا مطالبہ کرتے ہوئے طلبہ نے آج آرٹس کالج کے روبرو احتجاج منظم کیا۔ طلبہ نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور کہا کہ یونیورسٹی کے ساتھ حکومت کا رویہ جانبدارانہ ہے۔ وائس چانسلر کے تقرر میں تاخیر سے تعلیمی شعبہ متاثر ہوا ہے۔ بیروزگار نوجوانوں پر مشتمل فرنٹ کے صدرنشین سی دیاکر نے قیادت کی۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی و دیگر یونیورسٹیز پر وائس چانسلرس کا فوری تقرر کیا جائے۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کو 500 کروڑ کا بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت وائس چانسلرس کے تقررات کو ٹال رہی ہے۔ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی کئی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ نوجوانوں نے سرکاری محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر فوری تقررات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت نے گذشتہ 7 برسوں میں تقررات پر توجہ نہیں دی ہے۔ نوجوانوں کے ووٹ حاصل کرنے تقررات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن گذشتہ سات برسوں میں کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ احتجاج میں ایس ایف آئی ریاستی صدر آر ایل مورتی، پی ڈی ایس یو صدر ڈی رنجیت، اسٹوڈنٹ قائدین پی سرینواس، ایشور لال و دیگر نے حصہ لیا۔