حیدرآباد ۔19۔اکتوبر (سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کے خلاف حیدرآباد اور تلنگانہ کے دیگر علاقوں میں حامیوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں آج آرٹس کالج کے روبرو چندرا بابو نائیڈو فیانس اسوسی ایشن کے قومی صدر اور ماہر تعلیم سرینواس راؤ کی قیادت میں احتجاج منظم کیا گیا۔ طلبہ نے علامتی طور پر خود کو پھانسی پر لٹکانے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ آندھراپردیش حکومت نے انتقامی کارروائی کے تحت گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آندھراپردیش ریاست میں قانون کی بالادستی اور جمہوریت کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرتے ہوئے ہراساں کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد کی ترقی اور خاص طور پر انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں چندرا بابو نائیڈو کی مساعی کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ احتجاجیوں نے چندرا بابو نائیڈو کی صحت اور عمر کا خیال کرتے ہوئے صدر جمہوریہ سے مداخلت کی اپیل کی ۔ احتجاج میں بی سی اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے قائدین نے شرکت کی۔