عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضیات پر قبضہ کے خلاف گورنر سے نمائندگی کا فیصلہ

   

سی پی آئی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کا دورہ یونیورسٹی
حیدرآباد۔27مئی(سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں غیر قانونی قبضے کی اطلاعات کے بعد سی پی آئی کے ریاستی جنرل سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی کی قیادت میں اپوزیشن قائدین جس میں تلنگانہ جنا سمیتی کے صدر پروفیسر کودنڈرام‘ سی پی آئی قومی عاملے کے رکن وقومی صدر تنظیم انصاف سید عزیزپاشاہ‘ انقلابی گلوکارہ ویملا‘ سی پی آئی ایم ایل‘ نیو ڈیموکریسی صدر گوردھن ریڈی اور دیگر پر مشتمل ایک وفد نے عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس کا دورہ کیا اور کیمپس میںجہاں پرغیر قانونی طریقے سے قبضہ کیاجارہا ہے اس مقام کا معائنہ بھی کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے لیڈران بھی موجود تھے۔ ان قائدین نے کیمپس پہنچ کر شدید احتجاج کیا اور فیصلہ کیاکہ وہ ریاستی گورنر جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں ان سے بہت جلد ملاقات کرتے ہوئے اس معاملے میںمداخلت کی درخواست کریں گے۔ واضح رہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس کی جملہ اراضی1628ایکڑ پر محیط تھی جس میں سے 300ایکڑ اراضی ایفلو ‘ دوردرشن اور حیدرآباد پبلک اسکول کو دی گئی تھی۔ اور اب چند لینڈ گرابرس فرضی دستاویزات کے ذریعہ 3896اسکوئر یارڈ اور وڈربستی اور دیگر مقامات پر قبضہ جات کی پہل کرچکے ہیں۔ وفد نے دورہ کے بعد دوٹوک انداز میںکہاکہ عثمانیہ یونیورسٹی نہ صرف تلنگانہ بلکہ ہندوستان کی شان ہے اس کی ایک انچ اراضی پر بھی قبضہ ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت عثمانیہ یونیورسٹی کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے میںپوری طرح ناکام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر حال میں عثمانیہ یونیورسٹی کی قیمتی اور تاریخی اراضی کی حفاظت کریں گے اور اپنی آخر دم تک اس کو بچانے کی کوشش کی جائے گی ۔