اردو ذریعہ تعلیم کی پہلی یونیورسٹی سے حکام کا جانبدارانہ رویہ ، اردو داں طبقہ میں بے چینی
حیدرآباد: عثمانیہ یونیورسٹی ملک کی پہلی یونیورسٹی ہے جس کا قیام اردو میڈیم کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں نے یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کا ذریعہ تعلیم اردو باقی نہیں رہا اور نہ ہی یونیورسٹی پر اردو زبان اور تہذیب کی نشانیاں برقرار رہیں۔ تلنگانہ ریاست کے قیام سے قبل یونیورسٹی کا قدیم لوگو برقرار تھا لیکن تلنگانہ ریاست میں ٹی آر ایس برسر اقتدار آنے کے بعد خاموشی سے لوگو تبدیل کرتے ہوئے یونیورسٹی کی صورت گری ایک عام دیگر یونیورسٹی کی طرح کردی گئی ۔ اسے اردو اور اردو والوں کے ساتھ تعصب کہیں یا پھر اردو تہذیب کو ختم کرنے کی منظم سازش کہ حکومت کے مشیروں نے اپنے منصوبہ پر کچھ اس طرح عمل کیا کہ اردو داں طبقہ احتجاج تک نہ کرسکا۔ یونیورسٹی کے قدیم طلبہ میں غیر اقلیتی افراد کی کثیر تعداد موجود ہے جنہوں نے لوگو کی تبدیلی پر اعتراض جتایا ہے ۔ حیدرآباد کی تاریخ پر عبور رکھنے والی شخصیتوں اور مورخین نے بھی یوگی کی تبدیلی کو فرقہ پرست ذہنیت کی عکاسی سے تعبیر کیا ہے۔ عثمانیہ یونیور سٹی کے حقیقی لوگو میں عربی اور اردو شامل تھی ۔ اس کے علاوہ لوگوں کے اوپری حصہ میں نظام کا تاج سجایا گیا تھا۔ تاکہ یونیورسٹی کے ساتھ نظام کا تعلق تاقیامت برقرار رہے لیکن نئی ریاست تلنگانہ کی حکومت نے نیا لوگو تیار کیا جس میں اردو اور عربی کو ہٹادیا گیا جس کی جگہ تلگو اور ہندی شامل کی گئی۔ لوگو سے نظام کا علامتی تاج بھی خارج کردیا گیا ۔ موجودہ لوگو سے اس بات کا اندازہ کرنا مشکل ہے کہ یہ وہی یونیورسٹی ہے جس کا ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ لوگو میں عثمانیہ کے حرف ع کو برقرار رکھا گیا اور شائد یہ حکومت اور عہدیداروں کی مجبوری تھی۔ یونیورسٹی کا نام چونکہ عثمانیہ برقرار ہے لہذا حرف ع کو باقی رکھا گیا ہے ۔ تلنگانہ کی تہذیب اور تمدن کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والی کے سی آر حکومت کو چاہئے کہ وہ نظام حیدرآباد کے کارناموں کی صرف زبانی ستائش کرنے کے بجائے یونیورسٹی کے قدیم لوگو کو بحال کرتے ہوئے نظام سے اپنی محبت و عقیدت کا ثبوت دے۔