عثمانیہ یونیورسٹی کے محدود کیمپس کے لیے جلد ہی الیکٹرک بسیس

   

حیدرآباد ۔ 2 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں کالجس اور ہاسٹلس کے درمیان طلبہ کے لیے جلد ہی الیکٹرک بسیس چلائی جائیں گی جس سے طلبہ کو ہاسٹل سے کالج جانے اور واپسی میں سہولت اور آسانی ہوگی ۔ یونیورسٹی کی جانب سے کلوزڈ کیمپس پر عمل درآمد کے اس کے مقصد کے حصول کے سلسلہ میں اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اسے شروع کرنے کے لیے ابتداء میں طلبہ اور اسٹاف کو مفت سفر کی سہولت فراہم کرنے کے لیے دو الیکٹرک بسوں کو شروع کیا جائے گا ۔ ہر بس میں 20 لوگ بیٹھ سکتے ہیں ۔ اس اقدام سے توقع ہے کہ ایک کلوزڈ کیمپس ( محدود کیمپس ) کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کے منصوبوں میں تیزی آئے گی ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے جی ایچ ایم سی کو یہ تجویز پیش کی کہ جب کیمپس بند ہو تو عوام الناس اور آر ٹی سی بسوں کے لیے اڈیکمیٹ اور منیکیشور نگر سڑکوں کو متبادل راستوں کے طور پر استعمال کیا جائے ۔ شام 6 تا صبح 6 بجے کیمپس میں داخلہ پر پہلے ہی تحدیدات عائد کی گئی ہیں ۔ محدود کیمپس کے نظریہ کا مقصد کیمپس میں باہر کے لوگوں کے داخلہ کو روکنا ہے ۔ اس تعلیمی سال سے کیمپس کالجس کے طلبہ کو ایک منفرد شناختی کارڈ فراہم کیا جائے گا جس سے عہدیداروں کو کیمپس کے بونافائیڈ طلبہ کی شناخت کرنے میں مدود ہوگی ۔ یونیورسٹی کی جانب سے اب جلد ہی طلبہ اور اسٹاف کے لیے کلرڈ وہیکل انٹری اسٹکرس جاری کئے جائیں گے ۔ اس کا مطلب ہے ، طلبہ ، تدریسی اور غیر تدریسی اسٹاف اور وزیٹرس کی بھی گاڑیوں کے مختلف کلر اسٹکرس ہوں گے جس سے سیکوریٹی کو کیمپس میں کسی بھی گاڑی کی شناخت کرنے میں آسانی ہوگی ۔ ایک سینئیر عہدیدار نے کہا کہ یونیورسٹی کیمپس میں ایک سنگل انٹری اور ایگزٹ سسٹم کا منصوبہ ہے اور یونیورسٹی اس سلسلہ میں کام کررہی ہے ۔ یونیورسٹی نے رات کے اوقات میں کیمپس میں داخلہ پر پابندی عائد کی ہے ۔۔