عثمان نگر دوبارہ بارش کی زد میں ، 1200 سے زائد خاندان بے گھر

,

   

گزشتہ سال سے پانی کا مسئلہ برقرار، عوامی نمائندوں اور عہدیداروں کو کوئی دلچسپی نہیں، عوام پانی میں محصور
حیدرآباد۔8 ۔ستمبر (سیاست نیوز) گزشتہ سال موسلادھار بارش اور سیلاب کے نتیجہ میں مہیشور اسمبلی حلقہ کے عثمان نگر علاقہ کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عثمان نگر کے بیشتر مکانات پانی میں محصور ہوگئے اور بارہا نمائندگی کے باوجود حکام نے پانی کی نکاسی کا کام انجام نہیں دیا۔ علاقہ کے عوام حکومت اور حکام کی نااہلی سے پریشان ہی تھے کہ تازہ بارش نے صورتحال کو دوبارہ گزشتہ سال کی طرح بنادیا ہے ۔ عثمان نگر کے تقریباً 1500 افراد بے گھر ہوچکے ہیں کیونکہ جھیل کے زیر آب آنے سے پانی علاقہ میں داخل ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں عثمان نگر اور اطراف کے تین سو مکانات زیر آب آچکے ہیں۔ علاقہ میں پانی کے مسئلہ کی مستقل یکسوئی کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے اور عہدیدار مستقل حل تلاش کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے بارش کے نتیجہ میں عثمان نگر کے علاقہ میں گھٹنوں تک پانی جماعت ہوچکا ہے اور عوام کو گھروں سے ساز و سامان منتقل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو بے بسی کے عالم میں حکومت اور عہدیداروں کی آمد کے منتظر ہیں تاکہ پانی کی سطح میں کمی واقع ہو۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کی بارش اور سیلاب کے نتیجہ میں مکانات کو جو نقصان ہوا تھا ، ان کی پابجائی کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی امداد نہیں دی گئی۔ حکام کی جانب سے پانی کی نکاسی کا کوئی نظم نہیں کیا گیا ۔ حال ہی میں متعلقہ رکن اسمبلی اور وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے عثمان نگر کا دورہ کیا تھا ۔ انہوں نے عہدیداروں کو عثمان نگر جھیل کا تعمیری کام انجام دینے کی ہدایت دی تاکہ پانی آبادی میں داخل نہ ہو۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مکانات کو سیلاب سے بچانے کیلئے مستقل اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی دوران کمشنر جل پلی میونسپلٹی جی پراوین کمار نے کہا کہ بیشتر مکانات آبگیر علاقہ میں تعمیر کئے گئے ہیں جس کے نتیجہ میں کوئی مستقل حل تلاش کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی نکاسی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی ستمبر کے دوران موسلادھا بارش کے نتیجہ میں پانی مکانات میں داخل ہوگیا تھا جس کے نتیجہ میں قیمتی اشیاء اور غذائی اجناس کو نقصان پہنچا۔ کئی خاندان نقل مقام پر مجبور ہوچکے تھے ۔ حکام کو پانی کی نکاسی کے لئے 6 ماہ کا وقت لگ گیا اور یہ کام ابھی باقی تھا کہ مانسون کی آمد نے عثمان نگر کے مکینوں کیلئے دوبارہ مسائل پیدا کردیئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے سیلاب کے متاثرین کے لئے 10,000 روپئے کی امداد کا جو اعلان کیا تھا ، اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا ۔ R