عثمان نگر و شاہین نگر سے پانی کی نکاسی کیلئے ہائی کورٹ کی ہدایت

,

   

Ferty9 Clinic

کمشنر جل پلی کی عدالت میں حاضری، دو ماہ سے متاثرہ عوام مشکلات سے دوچار

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ جل پلی میونسپل کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ عثمان نگر ، شاہین نگر اور اطراف کے علاقوں میں آئندہ 15 دنوں میں پانی کی نکاسی کا کام انجام دیں۔ بالا پور منڈل ضلع رنگا ریڈی کے تحت ان علاقوں میں گزشتہ دو ماہ سے مکانات پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ عدالت نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ پانی کے جمع ہونے سے وبائی امراض کے خطرہ کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں گزشتہ اکتوبر کے دوران موسلادھار بارش کے بعد سے یہ علاقے پانی میں محصور ہیں۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس وجئے سین ریڈی نے مقامی افراد کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے میونسپل کمشنر جل پلی کی وضاحت کو مسترد کردیا ۔ عدالت نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے پانی میں گھرے ہوئے علاقوں سے پانی کی نکاسی کا انتظام کیا جائے ۔ عدالت کی ہدایت پر میونسپل کمشنر جی پراوین کمار عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات منتقل کیا گیا ہے۔ متاثرین کو شیلٹر کے علاوہ غذا فراہم کی جارہی ہے ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ فی الوقت 4 فٹ تک پانی ہے اور حکام صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ پانی اور کچرے کی نکاسی کے لئے کم از کم دو ہفتے درکار ہوں گے ۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کو حکومت کی جانب سے رہائش کا انتظام نہیں کیا گیا ۔ مذکورہ علاقوں میں کچرے کی نکاسی اور صحت و صفائی کے انتطامات نہیں ہیں جس کے نتیجہ میں وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے ۔ عدالت نے 7 جنوری کو مقدمہ کی آئندہ سماعت مقرر کی ہے ، جس وقت عہدیداروں کو پانی کی نکاسی کے بارے میں رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔