عثمان نگر کے مکانات 92 دنوں سے پانی میں محصور، عوام کو مشکلات

   

Ferty9 Clinic


کانگریس قائدین کی بھوک ہڑتال، ریاستی وزیر سبیتا اندرا ریڈی سے استعفیٰ کا مطالبہ
حیدرآباد: حلقہ اسمبلی مہیشورم کے عثمان نگر علاقہ میں گزشتہ 92 دنوں سے سینکڑوں مکانات پانی میں محصور ہیں اور ہزاروں خاندان بے گھر ہوکر رشتہ داروں کے پاس قیام کرنے پر مجبور ہیں۔ کانگریس قائدین نے آج عثمان نگر پہنچ کر متاثرین سے ملاقات کی اور پانی کی نکاسی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال منظم کی ۔ جنرل سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی عظمیٰ شاکر کی قیادت میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا گیا تھا جس میں متاثرہ خاندانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کرتے ہوئے اپنے مسائل پیش کئے ۔ احتجاج میں شریک مقامی افراد نے حکومت بالخصوص ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کے رویہ پر سخت تنقید کی جو اس علاقہ کی رکن اسمبلی ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے اندرون دو یوم پانی کی نکاسی کا وعدہ کیا تھا لیکن 92 دن گزرنے کے باوجود پانی جوں کا توں برقرار ہے جس کے نتیجہ میں نئے مکانات کی بنیادیں کمزور ہورہی ہیں اور کسی بھی وقت منہدم ہوسکتے ہیں۔ عظمیٰ شاکر نے کہا کہ دو ماہ قبل کانگریس قائدین نے علاقہ کا دورہ کیا تھا اور حکام نے انہیں حراست میں لے لیا۔ مقامی کونسلر اور صدرنشین بلدیہ دونوں کا تعلق مجلس سے ہے لیکن مجلسی قیادت کو عوامی مسائل کی کوئی فکر نہیں۔ اسد الدین اویسی کے پاس بہار ، یو پی اور مغربی بنگال جانے کے لئے وقت ہے لیکن حیدرآباد کے عثمان نگر علاقہ کا دورہ کرنے کی فرصت نہیں۔ عثمان نگر اور اطراف کے علاقوں کی آبادی مسلم اقلیت پر مشتمل ہے لیکن اقلیتوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی قیادت تماش بین بنی ہوئی ہے۔ سبیتا اندرا ریڈی کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہوگئیں۔ انہوں نے متاثرین سے پانی کی نکاسی کے علاوہ امداد کا وعدہ کیا تھا۔ کانگریس قائدین نے سبیتا اندرا ریڈی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پانی کی نکاسی اور امداد کی فراہمی میں ناکامی کے سبب انہیں عہدہ پر برقرار رہنے کا حق حاصل نہیں۔ قائدین نے شبہ ظاہر کیا کہ عثمان نگر کی اراضی پر قبضہ کی نیت سے متاثرین کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ مکانات منہدم ہونے پر کوڑیوں کے مول اراضی کو فروخت کردیں۔