عوام اور تاجرین کو سخت دشواریاں، گھنٹوں ٹریفک جام، عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کی بے حِسی
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد کی ترقی کے بارے میں حکومت کی جانب سے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں لیکن ترقیاتی کاموں کی رفتار کی حقیقت عثمان گنج میں نالے کی توسیع کے کام سے بے نقاب ہوچکی ہے۔ پرانے شہر سے نئے شہر کیلئے افضل گنج اور معظم جاہی مارکٹ واحد راستہ ہے لیکن عثمان گنج علاقہ میں گذشتہ 4 ماہ سے نالے کی توسیع کا کام جاری ہے جس کے نتیجہ میں ٹریفک کو بند کردیا گیا۔ مجلس بلدیہ نے ایک ماہ میں نالے کی توسیع کا کام مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ٹریفک تحدیدات نافذ کی تھی لیکن جولائی کے پہلے ہفتہ میں شروع کردہ کام آج تک مکمل نہیں ہوا ہے جس کے نتیجہ میں ایک طرف مصروف ترین تجارتی علاقہ عثمان گنج اور معظم جاہی مارکٹ کے سینکڑوں تاجر پریشان ہیں تو دوسری طرف ٹریفک کا رُخ دیگر علاقوں میں موڑنے کے نتیجہ میں روزانہ گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے اور عوام کو اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ عثمان گنج ایسا علاقہ ہے جو نئے اور پرانے شہر کو جوڑتا ہے اور اس علاقہ سے ہائی کورٹ کے ججس اور دیگر اہم شخصیتیں گذرتی ہیں۔ بارش کے موقع پر عثمان گنج اور بیگم بازار کا علاقہ بری طرح متاثر ہوتا رہا جس کے بعد نالے کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔ کام کی سُست رفتاری کے نتیجہ میں تاجروں اور عوام کی مشکلات دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں۔ سینکڑوں تاجرین نے شکایت کی ہے کہ گذشتہ 4 ماہ سے ان کا کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے۔ عوامی نمائندوں اور سرکاری عہدیداروں کو جنگی خطوط پر کاموں کی انجام دہی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ معمولی بارش کے نتیجہ میں پانی ادرک لہسن، پیاز کی مارکٹ میں جمع ہوجاتا ہے اور پانی میں محصور رہتے ہوئے تاجرین کاروبار پر مجبور ہیں۔ نالے کی صفائی کیلئے چارمینار کی سمت سے آنے والی ٹریفک کو بیگم بازار سے گوشہ محل کی طرف موڑ دیا گیا جبکہ عثمان گنج جانے والی ٹریفک کو مارکٹ سے جامباغ اور کوٹھی کی سمت موڑ دیا گیا ہے۔ ایسے میں عثمان گنج اور بیگم بازار کے تاجروں کے آٹوز اور چھوٹی حمل و نقل کی گاڑیاں کوٹھی سے براہ گولی گوڑہ جانے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں صبح و شام کے مصروف ترین اوقات میں گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے۔ عثمان گنج ادرک لہسن اور پیاز کے مارکٹ کے طور پر ریاست میں اپنی شناخت رکھتا ہے۔ تاجروں نے شکایت کی ہے کہ حالیہ مانسون کے موقع پر ان کی دکانات میں تین تا چار فیٹ پانی داخل ہوچکا تھا اور کئی دن تک کیچڑ اور پانی کے نتیجہ میں خریدار نہیں پہنچ سکے۔ لاک ڈاؤن کے دوران عوام کو کام کی تکمیل کا یقین تھا لیکن لاک ڈاؤن کے اختتام کے باوجود نالے کا کام انتہائی سُست رفتاری سے انجام دیا جارہا ہے۔ تاجرین نے شکایت کی ہے کہ بارش کے نتیجہ میں ادرک لہسن ، پیاز اور مرچ کو بھاری نقصان پہنچا۔ نالے کی توسیع کا کام 2.55 کروڑ سے شروع کیا گیا تھا لیکن بتایا جاتا ہے کہ کام کی سُست رفتاری نے پراجکٹ کی مالیت میں اضافہ کردیا ہے۔