پنجہ گٹہ میں بینک کو جائیدادوں کی فروخت کی اجازت، ہائی کورٹ کے احکامات
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ کے اجلاس کاملہ میں ایسے تمام مقدمات جن پر 11 ڈسمبر تک حکم التواء جاری کیا گیا تھا ، اس میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان ، جسٹس ایم ایس رام چندر راؤ اور جسٹس اے راج شیکھر ریڈی نے صدرنشین بار کونسل کی جانب سے لکھے گئے مکتوب پر کارروائی کرتے ہوئے حکم التواء کے معاملات میں توسیع کو منظوری دی ہے۔ سابق میں 11 ڈسمبر تک یہ توسیع کی گئی تھی ۔ بار کونسل کو مختلف بار اسوسی ایشنوں کی جانب سے نمائندگیاں موصول ہوئیں جس میں خواہش کی گئی کہ حکم التواء یہ معاملات کو آئندہ سال کے آغاز تک توسیع دی جائے۔ عدالت نے سابقہ احکامات کو 31 جنوری تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسی دوران جسٹس رام چندر راؤ اور جسٹس امرناتھ گوڑ نے پنجہ گٹہ کے علاقہ میں دو جائیدادوں کی فروخت کی اجازت دی ہے۔ آندھرا بینک کی جانب سے یہ جائیدادیں فروخت کی جارہی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ جائیدادوں کی فروخت ہائی کورٹ کی منظوری کے تابع رہے گی۔ جسٹس سی ایچ کودنڈا رام نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی ورنگل کو ہدایت دی ہے کہ کالج سے برطرف کئے جانے والے ملازم پرمیش یادو کی درخواست پر از سر نو غور کریں۔ اندرون دو ہفتے ملازم کی اپیل کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری کارروائی کی جائے۔ درخواست گزار نے کالج کی جانب سے برطرف کئے جانے کے فیصلہ کو چیلنج کیا تھا۔ فروری میں اپیل دائر کی گئی تھی لیکن کالج انتظامیہ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
