نئی دہلی: سپریم کورٹ نے یٹی نرسمہانند کے عدالت کے خلاف مبینہ قابل اعتراض انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ طلب کیا ہے۔ درخواست گزار نے نقل کے لیے وقت مانگا ہے۔ معاملے کی سماعت تین ہفتے بعد ہوگی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ یٹی نے سپریم کورٹ کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کی درخواست دائر کی گئی تھی اس سے قبل جنوری 2022 میں اٹارنی جنرل کےکی وینوگوپال نے جمعہ کو دھرم سنسد کے لیڈر یتی نرسمہانند کے خلاف آئین اور سپریم کورٹ کے خلاف ان کے مبینہ ریمارکس پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی منظوری دے دی ایک سماجی کارکن شچی نیلی نے اٹارنی جنرل کو خط لکھ کر یتی نرسمہانند کے خلاف ایک انٹرویو میں دیے گئے اپنے بیانات کے پس منظر میں توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں رضامندی دی گئی ہے۔ متعلقہ انٹرویو 14 جنوری کو ٹویٹر پر وائرل ہوا تھا۔ توہین عدالت ایکٹ کے سیکشن 15 کے تحت سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا مقدمہ شروع کرنے کے لیے اٹارنی جنرل یا سالیسٹر جنرل کی اجازت پیشگی شرط ہے۔