حیدرآباد۔/18 ستمبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے ڈیویژن بنچ نے حبس بیجا سے متعلق ایک مقدمہ میں درخواست گذار کو 50 ہزار روپئے جرمانہ عائد کرتے ہوئے اندرون دو ہفتے ادا کرنے کی ہدایت دی۔ قانون کے غلط استعمال کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس اے ابھیشیک ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ تفصیلات کے مطابق10 اگسٹ کو ایک خاتون کی شکایت پر سرور نگر پولیس نے وی ملیش ساکن پون پوری کالونی رنگاریڈی کے خلاف مقدمہ درج کیا ۔ تحقیقات کے بعد 13 اگسٹ کو ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں دے دیا گیا۔ فیس بک پر بعض قابل اعتراض تصاویر کے ذریعہ ہراساں کرنے اور دھمکی دینے پر کارروائی کی گئی۔ ملزم ملیش نے ڈیویژن بنچ سے رجوع ہوکر حبس بیجا کی درخواست دائر کی جس میں شکایت کی گئی کہ خاتون کو اس کے والد اور بہنوئی نے تحویل میں رکھا تھا اور پولیس میں جھوٹی شکایت درج کی گئی۔ عدالت نے اشونی کو آج عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سرور نگر انسپکٹر نے خاتون کو عدالت میں پیش کیا۔ جہاں عدالت نے متاثرہ خاتون کے موقف کی سماعت کے بعد درخواست گذار کو عدالت کو گمراہ کرنے کی پاداش میں50 ہزار جرمانہ عائد کیا۔