راجندر نگر میں ہائی کورٹ زون II عمارتوں کا سنگ بنیاد، چیف منسٹر ریونت ریڈی اور جسٹس اپریش کمار سنگھ کے خطاب، آئندہ سال ڈسمبر تک پراجکٹ کی تکمیل
حیدرآباد۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے رنگاریڈی ضلع کے راجندر نگر میں ہائی کورٹ زون II عمارتوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ اپریش کمار سنگھ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کے علاوہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججس اور سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ حکومت نے راجندر نگر میں نئے ہائی کورٹ کامپلکس کی تعمیر کے لئے 100 ایکر اراضی مختص کی ہے اور زون I کے تعمیری کام جاری ہیں جن میں ہائی کورٹ کی مین بلڈنگ شامل ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے زون II کی عمارتوں کا سنگ بنیاد رکھا جس میں ججس کے رہائشی کوارٹرس شامل رہیں گے۔ حکومت نے بہتر انفرااسٹرکچر سہولتوں کے ساتھ ہائی کورٹ اور ججس کی رہائشی کوارٹرس کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ زون II کی عمارتوں کے تحت ڈیجیٹل لائبریر، ایڈمنسٹریٹیو بلڈنگ اور دیگر عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے لئے عصری سہولتوں کے ساتھ کامپلکس کی تعمیر پر تلنگانہ حکومت کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہائی کورٹ کامپلکس اور رہائیش کوارٹرس کی دو سال میں تکمیل کا وعدہ کیا ہے جس کے لئے وہ قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ کامپلکس دیگر ریاستوں کے لئے مثالی ثابت ہوگا اور یہ ریاست کا ایک اہم پراجکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو بہتر انداز میں خدمات انجام دینے میں بہتر انفرااسٹرکچر سہولتیں مددگار ثابت ہوں گی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہائی کورٹ کی موجودہ عمارت اگرچہ تاریخی نوعیت کی حامل ہے لیکن وہ ناکافی ثابت ہو رہی تھی لہذا حکومت نے عصری کامپلکس کی تعمیر کا آغاز کیا ہے جس کے تحت آئندہ 100 برسوں کی ضروریات کی تکمیل ہوگی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اپنے خطاب میں عدلیہ، مقننہ اور عاملہ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ یہ تینوں ادارے مکمل آزادی کے ساتھ خدمات انجام دیتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہندوستان کی عظیم قانونی شخصیتوں کے درمیان موجودگی پر انہیں خوشی ہے۔ کسی بھی لیڈر کی زندگی میں اس طرح کا لمحہ بہت کم وقوع پذیر ہوتا ہے۔ ہندوستان میں مندر، مسجد، چرچ یا گرودوارا تعمیر کیا جاسکتا ہے لیکن کورٹ کامپلکس کی تعمیر ایک منفرد موقع ہے اور یہ کیمپس انصاف کا مرکز ہوتا ہے جو تمام مذاہب کے افراد کیلئے کسی مندر سے کم نہیں۔ جمہوریت میں مقننہ، عاملہ اور عدلیہ تین ایسے ستون ہیں جن کا احترام لازمی ہے۔ عام آدمی کے لئے انصاف کے حصول کا عدالت آخری ذریعہ ہوتی ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ میری حکومت اور خود میری اپنی زندگی میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے نئے کامپلکس کی تعمیر کسی اعزاز سے کم نہیں۔ سابق میں کئی حکومتوں اور چیف منسٹرس نے پراجکٹ کے آغاز کی کوشش کی لیکن بعض وجوہات کے سبب ممکن نہ ہوسکا۔ میری حکومت کو پراجکٹ کی تکمیل کا موقع حاصل ہوا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہائی کورٹ کی موجودہ عمارت تاریخی اہمیت کی حامل ہے لیکن موجودہ ضرورتوں کی تکمیل سے قاصر ہے لہذا حکومت نے نئے ہائی کورٹ کامپلکس کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان میں ہائی کورٹس کی عمارتوں میں سب سے بڑی اور وسیع عمارت رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال ڈسمبر تک کامپلکس کی تعمیر کا کام مکمل کرلیا جائے گا جن میں رہائشی کورٹرس بھی شامل ہوں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست بھر میں 49 عدالتوں کی نئی عمارتوں کی تعمیر کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت عدلیہ کے احکامات کا نہ صرف مکمل احترام کرتی ہے بلکہ عدلیہ کی جانب سے ظاہر کردہ خیالات کو بھی قدر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ 1/F/K