نئی دہلی : مسلما نوں پر عدل و انصاف قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہاکہ اگرمسلمان ملک میں عدل وانصاف ہر طبقے تک پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں تو تمام شعبوں میں اپنی کامیابی کا جھنڈا لہرا سکتے ہیں۔ یہ انہو ں نے جامعتہ الہدایہ جے پور میں منعقدہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے دوروزہ تربیتی و مشارتی اجلاس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سابق صدرقاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی بات نقل کرتے ہوئے کہ اگر ہم مکمل دیانتداری کے ساتھ قیام عدل کا فریضہ انجام دیتے رہے تو مجھے قوی امید ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس ملک میں انصاف کا کام مسلمانوں کے سپر د کر دیا جائے گا کہاکہ مسلمانوں کو زمین پر انصاف قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے ، اس پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ ہم اس میں کتنا کامیاب ہوئے ہیں۔مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کی وہ بات بالکل سچ ثابت ہوگی اگر ہم اس سمت میں کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قیام عدل کی کوشش قابل تعریف ہے ، دسمبر 2013میں بطور آرگنائزر مولانا تبریز عالم کی تقرری سے مولانا عتیق احمد بستوی کوایک مظبوط معاون مل جانے سے نظام قضاء کو منظم، مستحکم اور مؤثر بنانے میں سہولت ہوئی، جس کے نتیجہ میں پچھلے دس سالوں میں بورڈ کے نظام قضاء میں سب سے زیادہ ترقی ہوئی ہے اور بورڈ کا یہ شعبہ سب سے زیادہ فعال شعبوں میں سے ایک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ (قاضی)عام انسان یا عام عالم کے مانند نہیں ہیں، آپ عہدہئ قضاء پر فائز ہیں، آپ کا مرتبہ بلند ہے ، آپ اپنے کاموں میں اللہ کے نائب ہیں، آپ کی زندگی نبوی زندگی کا نمونہ ہونی چاہئے ، بہت سے ایسے کام جوگرچہ شرعا ممنوع نہیں ہیں، بہت سے لوگوں کے لئے اس کے کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے ، مگر چونکہ آپ عہدہ قضاء کے عظیم منصب پر فائز ہیں آپ کو ان سے محتاط رہنا ہوگا، خاص طور سے زن اور زر کے معاملہ میں حد درجہ احتیاط ضروری ہے ، آپ کی ایک غلطی اور ایک چوک صرف آپ ہی کو نہیں بلکہ پورے نظام قضاء کو متأثر کر سکتی ہے ، آپ دارالقضاء کے اند ر اور باہر ہمیشہ قضاۃ کے لئے بیان کئے گئے آداب اور اوصاف کا لحاظ رکھیں، آپ کی ذات اور آپ کے کام سے اسلام کے نظام عدل پرلوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہونا چاہئے ۔