فورسیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیلس برسائے گئے ۔ ایک احتجاجی کی ہلاکت کی توثیق
بغداد 2 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) عراقی سکیوریٹی فورسیس کی آج صبح کی اولین ساعتوں میں دارالحکومت کے تحریر اسکوائر میں احتجاجی مظاہرین سے جھڑپیں ہوئی جن کے نتیجہ میں ایک احتجاجی ہلاک ہوگیا اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ میڈیکل ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ بغداد میں رات بھر سے ہوئے تشدد کا مرکز تحریر اسکوائر کو تگریس کے مغربی کنارہ سے جوڑنے والے دو برجوں پر رہا جہاں بیشتر سرکاری عمارتیں اور بیرونی سفارتخانہ بشمول امریکی و ایرانی مشن کے دفاتر واقع ہیں۔ فسادات سے نمٹنے والی پولیس کو ان برجس پر متعین کیا گیا تھا جس نے احتجاجیوں کو پیچھے ڈھکیلنے کیلئے آنسو گیس کے شیل برسائے ۔ احتجاجی خود اپنے اطراف رکاوٹیں کھڑی کئے وہاں موجود رہے تھے ۔عراق میں بڑھتی ہوئی رشوت ستانی اور بیروزگاری کے خلاف یکم اکٹوبر سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور احتجاجی سیاسی اور مذہبی طبقہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو بیدخل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاجیوں نے تقریبا ایک ہفتے تک تحریر اسکوائر پر جمع ہوکر مظاہرے کئے تھے تاہم حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔
احتجاجی بھی حکومت کی تجاویز سے متفق نہیں ہوئے ہیں ۔ حکومت کی تجویز تھی کہ ملک میں تازہ انتخابات کرواتے ہوئے نئے وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائیگا ۔ عوام کا کہنا ہے کہ ملک میں 16 سال سے انتخابات ہو رہے ہیں لیکن حاصل کچھ بھی نہیں ہوا ہے ۔ تحریر اسکوائر پر جمع ہوئے ایک اور کارکن کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو چاہئے کہ وہ حکومت کی جانب سے تجویز کی جانے والی فرضی اصلاحات کو قبول نہ کرے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کیا کچھ ہو رہا ہے اور ہم اپنے احتجاج کے ایک اہم مرحلہ میں داخل ہوئے ہیں اور یہاں سے ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا ہے۔ یکم اکٹوبر سے حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج اور ریلیوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار میں کل رات ہوئے احتجاج میں ایک موت کی اطلاع دی گئی ہے جبکہ طبی اور سکیوریٹی ذرائع نے کہا کہ کم از کم آٹھ افراد ان مظاہروں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سات افراد تحریر اسکوائر کے قریب فوت ہوئے ہیں۔
