بغداد 14 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) عراق میں شمالی بغداد کے ایک فوجی ٹھکانے پر نئے راکٹ حملے کئے گئے ہیں جہاں امریکی اور برطانوی افواج کے اڈے ہیں۔ عراقی اور امریکی سکیوریٹی ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ یہ شاذ و نادر ہونے والا دن کے وقت کا حملہ تھا ۔ کہا گیا ہے کہ ماہ اکٹوبر کے بعد سے یہ 23 واں راکٹ حملہ تھا جو امریکی افواج اور سفارتکاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا ہے ۔ حالانکہ ان حملوں میں کسی کی بھی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے لیکن امریکہ کی جانب سے ان حملوں کیلئے حاشد الشابی کے کٹر پسند عناصر کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ گروپ عراق میں تیار کئے گئے مسلح گروپس کا نیٹ ورک ہے ۔ عراقی اور امریکی فوجی عہدیداروں نے کہا کہ ہفتے کو تاجی ہوائی ٹھکانے پر حملہ کیا گیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ اس حملے میں دو عراقی دفاعی اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور ان کی حالت نازک بتائی گئی ہے ۔ عراق کے مشترکہ آپریشن کمان کے ترجمان تحسین الخفاجی نے یہ بات بتائی ۔ ایک فوجی ذریعہ نے کہا کہ عراقی سکیوریٹی فورسیس کو قریب سے راکٹوں کا لانچنگ پیڈ دستیاب ہوا ہے لیکن حملہ آور ہاتھ نہیں لگے ہیں۔ امریکی اتحادی مخلوط نگرانی کار آلات پر ابر آلود موسم کی وجہ سے مشکلات ہیں اور ایسے حملوں کا قبل از وقت پتہ چلانے میں مشکل پیش آ رہی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اسی موسمی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آوروں کی جانب سے راکٹ حملے کئے جا رہے ہیں اور امریکی و بیرونی افواج کو یہاں نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
