عراق میں ایرانی مداخلت کے خلاف عوام کا احتجاج

,

   

Ferty9 Clinic

نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے 15 روز کے اندر نامزدگی داخل کی جائے گی

عراق میں مظاہرین نے ایک بار پھر اپنے ملک میں ایرانی مداخلت کے خلاف غصے کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران منگل اور بدھ کی درمیانی شب نجف میں ایرانی قونصل خانے میں تیسری مرتبہ آگ لگائے جانے کا واقعہ رونما ہوا۔ادھر دارالحکومت بغداد میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مستعفی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے متبادل کی نامزدگی کے واسطے سیاست ہلچل کا آغاز ہو گیا۔ عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی نے منگل کی شام عراقی صدر سے درخواست کی کہ وہ 15 روز کے اندر وزارت عظمی کے لیے امیدوار نامزد کر دیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق لبنانی تنظیم حزب اللہ بھی عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کے عمل میں اپنے طور پر سرگرم ہو گئی ہے۔بغداد میں فیصلہ ساز اداروں کے مقرب ایک عراقی ذریعے نے بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب میں القدس فورس کا سربراہ قاسم سلیمانی اور حزب اللہ میں عراق کے امور کا ذمے دار محمد کوثرانی مستعفی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا جاں نشیں نامزد کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔ مذکورہ ذریعے کے مطابق سلیمانی اس وقت بغداد میں موجود ہے جب کہ کوثرانی بھی اس حوالے سے شیعہ اور سنی سیاسی قوتوں کو قائل کرنے میں بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بغداد اور عراق کے کئی جنوبی شہروں میں گذشتہ دو روز کے دوران حکام کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ عراقی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ملک پر ایران کا سب سے زیادہ نفوذ ہے بالخصوص جب کہ اس وقت القدس فورس کا سربراہ سلیمانی عراق میں موجود ہے۔