عراق میں حکومت سازی: سنی جماعتوں نے متحدہ سیاسی کونسل بنالی

   

بغداد۔ 24 نومبر (آئی اے این ایس) عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کے اہم مرحلے کے دوران بڑی سنی جماعتوں نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے متحدہ نیشنل پولیٹیکل کونسل قائم کر لی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ شیعہ اتحادوں کے مقابلے میں پارلیمنٹ میں مضبوط اور یکساں مؤقف پیش کیا جائے۔ یہ فیصلہ سورینٹی (السّیادہ) الائنس کے سربراہ خامس الخنجر کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ ان کی جماعت نے11 نومبر کے انتخابات میں خاصی نشستیں حاصل کی تھیں۔ سنی جماعتوں کی یہ حکمتِ عملی اس وقت سامنے آئی ہے جب شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک نے خود کو پارلیمان کا سب سے بڑا بلاک قرار دے دیا ہے، جس سے انہیں نئے وزیرِاعظم کے نام کا اختیار مل جاتا ہے۔ نئی قائم ہونے والی سنی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ مشترکہ لائحہ عمل، آئینی حقوق کے تحفظ اور ریاستی اداروں میں بہتر نمائندگی کے لیے مل کر کام کرے گی۔ کونسل نے واضح کیا کہ وہ تمام سیاسی قوتوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن ہر صورت تمام قومیتی و مذہبی طبقات کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔ عراق کے موجودہ سیاسی نظام میں جو 2003 کے بعد قائم ہوا صدر کا عہدہ کرد، اسپیکر کا عہدہ سنی اور وزیرِاعظم کا عہدہ شیعہ لیڈرکے پاس جاتا ہے۔ اسی وجہ سے سنی جماعتیں اسپیکر شپ اور کابینہ میں مؤثرکردار کے لیے اپنی صفیں مضبوط کر رہی ہیں۔ انتخابی نتائج کے مطابق موجودہ وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی کا اتحاد 46 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، مگر حکومت سازی کا عمل ابھی طویل اور پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔ دیگر سیاسی قوتوں میں نوری المالکی کا اسٹیٹ آف لاکولیشن 29 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ سابق اسپیکر محمد الحلبوسی کا تقدم اتحاد 27 نشستیں رکھتا ہے۔ کرد جماعتوں، خصوصاً کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھی ہے۔