عراق میں خونی جھڑپیں جاری،ہلاکتوں کی تعداد 30 ہوگئی،350 زخمی

   

مقتدیٰ الصدرکا تشدد بند ہونے تک بھوک ہڑتال کا اعلان

بغداد : عراق میں جاری سیاسی تعطل پرطاقتورشیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر کے سیاست چھوڑنے کے فیصلے کے بعد پیر کے روزبغداد میں تشدد آمیز واقعات کو روکا نہیں جا سکا ہے۔ اب تک تقریبا30 افراد ہلاک اور 350 زخمی ہوگئے ہیں۔مقتدیٰ الصدر کے وفادارنوجوان ان کے اعلان پر احتجاج کرتے ہوئے بغداد کی سڑکوں پر نکل آئے تھے اوران کی تہران کے حمایت یافتہ گروہوں کے حامیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔انھوں نے بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون کے باہر ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔العربیہ کے نامہ نگارکیمطابق بغداد کے گرین زون میں ہونے والی خون ریز جھڑپوں میں دو عراقی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔مقامی صحافیوں نے بتایا کہ بغداد کے وسطی علاقے میں فائرنگ کی بازگشت سنائی دی ہے اورنامعلوم مقام سے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ہے لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ یہ فائرنگ کس نے کی ہے۔پولیس اور طبی کارکنوں نے جھڑپوں میں قبل ازیں فائرنگ سے مقتدیٰ الصدر کے آٹھ حامیوں کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔اس سے پہلے انھوں نے دوافراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔بعض صحافیوں نے بتایا ہے کہ بغداد کے گرین زون میں اس وقت براہ راست فائرنگ شروع ہوگئی جب مقتدیٰ الصدر کے سیکڑوں حامیوں نے قلعہ بند گرین زون میں واقع سرکاری عمارت ری پبلکن پیالیس پر دھاوا بول دیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ مقتدیٰ الصدر کے حریف شیعہ بلاک یعنی ایران نواز رابطہ فریم ورک کے حامیوں نے پہلے فائرنگ کی تھی۔سکیورٹی فورسز نے گرین زون کے داخلی دروازے پر صدری تحریک کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے اشک آورگیس کے گولے داغے ہیں اور اس کے بعد وہ سرکاری محل کو خالی کرنے پرمجبور ہوگئے۔مقتدیٰ الصدر نے قبل ازیں سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے ردعمل میں ان کے ناراض پیروکار ری پبلکن محل میں داخل ہوگئے۔ان کے حامیوں نے سیمنٹ کی رکاوٹوں کو رسیوں سے نیچے اتارا اور محل کے دروازے توڑ دیے۔بہت سے لوگ محل کے شاندارسیلونوں اور سنگ مرمر والے ہالوں میں داخل ہوگئے۔یہ محل عراقی سربراہان مملکت اورغیرملکی معززین کے درمیان ملاقاتوں کی ایک اہم جگہ ہے۔عراقی دارالحکومت کے گرین زون میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد عراقی پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے والے صدری بلاک کے سربراہ حسن العذاری نے کہا ہے کہ جماعت کے سربراہ مقتدا الصدر نے ملک میں جاری فسادات اور پرتشدد مظاہرے روکے جانے تک بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔العذاری نے ٹیلی گرام پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے مزید کہا “بدعنوانوں کو ہٹانے سے کسی کو بھی، چاہے کچھ بھی ہو، ہر طرف سے تشدد کے استعمال کا جواز نہیں ملتا۔میڈیا نے گرین زون میں سرکاری محل کے قریب میزائل گرنے اور وہاں جاری جھڑپوں میں آر پی جی لانچروں کے استعمال کی اطلاع دی تھی۔بغداد میں فلسطین اسٹریٹ کے علاقے میں پاپولر موبلائزیشن (الحشد الشعبی) کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کی بھی اطلاع ہے۔اس کے علاوہ گردش کرنے والی تصاویر میں بصرہ میں الصدر کے السلام بریگیڈز کے ہیڈ کوارٹر پر فائرنگ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ شہر میں عراقی حزب اللہ ملیشیا کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایک اور ویڈیو میں بصرہ میں صدری تحریک کے حامیوں اور الحشد کے عسکریت پسندوں کے درمیان مسلح جھڑپیں دکھائی دے رہی ہیں۔اس سے قبل مقتدیٰ الصدر نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، جس کے بعد ان کے سینکڑوں مشتعل پیروکاروں نے سرکاری محل پر دھاوا بول دیا۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوئیں، جس میں گرین زون میں 15 افراد اور عراقی فوج کے دو سپاہی مارے گئے۔