عرب معیشت میں سعودی عرب کا اوّل نمبر برقرار

   

ریاض : عرب معیشت میں سعودی عرب کا حصہ 2021 میں 0.4 فیصد پوائنٹس بڑھ گیا کیونکہ مملکت نے خطے کے سب سے بڑے اقتصادی پلیئر کے طور پر اپنا موقف برقرار رکھا۔عرب نیوز کے مطابق عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق مملکت نے گزشتہ سال 833.5 بلین ڈالر کی گھریلو پیداوار ریکارڈ کی، جو پورے عرب خطے کے 29.7 فیصد کے برابر ہے۔متحدہ عرب امارات 410 بلین ڈالر کے ساتھ دوسری سب سے بڑی عرب معیشت تھی، جب کہ مصر 402.8 بلین ڈالر کی پیداوار کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ احمد الصبیح نے 2022 میں مسلسل ترقی کی توقع ظاہر کی ہے، خاص طور پر 2021 کی اسی مدت کے مقابلے میں 2022 کی پہلی سہ ماہی کے دوران خطے میں درآمد کیے گئے غیرملکی منصوبوں کی مالیت میں 86 فیصد اضافے کے بعد 21 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ عرب معیشت نے مجموعی طور پر2.1 ٹریلین ڈالر کی مجموعی گھریلو پیداوار کے ساتھ دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت اٹلی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔خطے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں براہ راست اضافہ ہوا۔ آمدن میں سال بہ سال 43 فیصد اضافہ ہوا جو تقریباً 53 بلین ڈالر کے برابر ہے۔اس سے ایف ڈی آئی کل تقریباً 1.58 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔یہ آمد ورفت ترقی پذیر ممالک میں آنے والے بہاؤ کا 6.3 فیصد اور عالمی بہاؤ کا 3.3 فیصد ہے۔96 فیصد سے زیادہ بڑھی ہوئی رقوم صرف پانچ ممالک میں مرکوز ہیں۔