عرب ممالک کیلئے فلسطینیوں کا جبری انخلا ناقابل قبول : مصر

   

قاہرہ: مصر کے وزیر خارجہ کی امریکہ میں اپنے ہم منصب مارکو روبیو کے ساتھ ملاقات کے بعد مصری وزارت خارجہ نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے جبری انخلا کے منصوبے کو مسترد کرنے کے موقف کی عرب ممالک حمایت کرتے ہیں۔مصری وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مصر کی طرف سے امریکی وزیر خارجہ کو اس بارے میں مصری اور عرب ملکوں کے مؤقف سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا اور غزہ کا کنٹرول امریکہ کے پاس آنے کو بھی قبول نہیں کرتے۔واضح رہے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ کی صفائی کیلئے فلسطینیوں کو 20 لاکھ کی تعداد میں مصر اور اردن میں منتقل کر دینے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ جس پر پوری دنیا کے ساتھ ساتھ امریکہ و اسرائیل سے بھی رد عمل سامنے آرہا ہے۔مصر کے وزیر خارجہ اس سلسلے میں اپنا موقف پیش کرنے اتوار کے روز امریکہ پہنچے تھے۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم بھی امریکہ پہنچنے والے ہیں تاکہ وہ بھی براہ راست صدر ٹرمپ کو اپنے ملک کے مؤقف سے آگاہ کر سکیں۔مصر اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی یہ ملاقات پیر کے روز واشنگٹن میں ہوئی ہے۔ ملاقات میں امریکہ کی طرف سے غزہ کی تعمیر نو کے عمل کیلئے کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر مصر کے وزیر خارجہ نے کہا ان کا ملک امریکی انتظامیہ کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کیلئے کام کرنا چاہتا ہے۔وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی نمائندہ سٹیو وٹکوف سے بھی ملاقات کی ہے۔ ان کے سامنے بھی مصر اور عرب ملکوں کے فلسطینی انخلا کے بارے میں مؤقف کا اظہار کیا گیا۔علاوہ ازیں مصر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو مل کر فلسطینیوں کے حق کیلئے ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔ کیونکہ فلسطینی عوام ایک تاریخ بے انصافی کا ہدف ہیں۔ یاد رہے ٹرمپ کے فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے منصوبے کی ہر جگہ سے مذمت کی جارہی ہے۔ادھر ‘فاکس نیوز’ پر ماہرین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ‘ امریکی صدر کے منصوبے میں فلسطینیوں کو واپس غزہ آنے کا حق نہیں ہوگا۔’