عرب ۔اسرائیل تعلقات کا نیارخ،عالم اسلام برہم

   

دبئی : اسرائیل کے امارات،بحرین معاہدے نے اسلامی دنیا کو ایک نئے موڑ پر کھڑا کر دیا ہے،معاہدہ کرنے والے اور معاہدہ کے درپردہ حمایتی بظاہر مطمئن ہیں مگر ان ممالک کی عوام میں بے چینی موجود ہے، دوسری طرف اسلامی ممالک کی بڑی تعداد اس معاہدہ کوذلت آمیز اور اسلامی دنیا سے خیانت اور غداری قرار دیتے ہوئے اسے عرب دنیا کی تاریخ کا سیاہ دن اس لئے قرار دے رہی ہے کہ اس معاہدے کے اثر میں اسلامی کیلنڈر میں عربوں کی شکست اور ناکامیوں کے نئے خاکے بن گئے،فلسطینی مجاہدین کے مطابق اسرئیل سے ماضی میں ’’گلے ملنے‘‘ والے مصر،اردن اور اب حالیہ نئی دوستی کرنے والے امارات اور بحرین کے اسرائیل سے درپردہ روابط تو پہلے ہی موجود تھے۔ ان ممالک کے سربراہان نے کبھی بھی قبلہ اوّل اور فلسطینیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند نہیں کی تھی مگر ایک بھرم قائم تھا کہ مسلمان ایک ہیں ،مگر آج اعلانیہ طور پر دو اور اسلامی ملک امریکہ کے نام نہاد امن منصوبے کے حق میں مسجد اقصیٰ کے حق سے دستبردار ہوتے ہوئے ’’ قضیہ فلسطین‘‘ کو ختم کرنیکی سازش میں معاون اور فلسطینی قوم کے نصب العین کے ساتھ غداری کے مرتکب ہو گئے ہیں۔ اسلامی دنیا کی نظریں ایسے حالات میں سرزمین حجاز کی طرف اٹھتی ہیں، ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے? واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ آئندہ دنوں میں سعودی عرب اور بہت سے اسلامی ممالک اسرئیل کے ساتھ بائیکاٹ ختم کر کے دوستانہ روابط قائم کر لیں گے۔عالمی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امارات اور بحرین، سعودی عرب کے مثبت اشاروں کے بغیر اسرائیل سے دوستی کااتنا بڑا فیصلہ کبھی نہیں کر سکتے تھے۔قطر،پاکستان،ایران ،ترکی اور بہت سے اسلامی ممالک ابھی بیت المقدس اور فلسطینیوں کے حقوق کے حق میں اپنے فیصلوں پر قائم ہیں مگر،مستقبل میں اگر کچھ اور مسلم ممالک امریکہ کی خوشنودی کے لئے اپنے موقف پر کمزور پڑ گئے تو یہ اسرائیل کی کامیابی ہو گی اور یہودی اپنے منصوبوں اور مقاصد میں کامیاب ہوتا نظر آئے گا۔