جبراً تبدیلی مذہب کا شوشہ ایک مفروضہ۔ مولانا مدنی
نئی دہلی: جبراً تبدیلی مذہب کرانے کے الزام میں ماخوذ عرفان خواجہ خاں کا مقدمہ جمعیۃ علمائے ہند نے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے وکیل مقرر کردیا اور انہوں نے اپنا کام بھی شروع کردیا ہے ۔دوسری طرف جبراً تبدیلی مذہب کو ایک مفروضہ قرار دیتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ اس کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے ۔ جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق تبدیل مذہب کرانے کے الزام میں یو پی اے ٹی ایس نے مزید تین ملزمین کو گرفتار کیا ہے جس میں سے ایک ملزم عرفان خواجہ خان کا تعلق مہاراشٹر کے ضلع بیڑ سے ہے ۔ملزم عرفان خواجہ خان جو منسٹری آف وومن اینڈ چلڈرن ڈیولپمنٹ میں بطور ترجمان کام کرتے تھے جن پر الزام ہے کہ وہ گونگے بچوں کو عمر گوتم کے کہنے پر اسلام قبول کرنے میں ان کی مدد کرتے تھے ۔ملزم عرفان خواجہ کی گرفتاری کے بعد اس کے اہل خانہ نے صدر جمعیۃ علماء بیڑ حافظ ذاکر کے توسط سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی سے رابطہ قائم کرکے انہیں قانونی امداد یئے جانے کی درخواست کی۔گلزار اعظمی کے نام تحریر خط میں لکھا ہے کہ اس معاملے سے عرفان خواجہ خان کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ مرکزی حکومت کے زیر انصرام منسٹری آف ومن اینڈ چلڈرن ڈیولپمنٹ ادارے میں بطور ترجمان کام کرتے تھے اوران کا کام گونگے بچوں کی ترجمانی کرنا تھا اور انہیں اس جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا گیا ہے ۔اس ضمن میں گلزار اعظمی نے کہا کہ انہیں ملزم عرفان خواجہ خان کے بھائی عمران خواجہ خان کی جانب سے درخواست موصول ہوئی جس پر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ موصولہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دوران پولس تحویل عمر گوتم نے ملزم عرفان خواجہ اور دیگر دو لوگوں کا نام لیا ہے جس کے بعد ان کی دہلی سے گرفتاری عمل میں آئی ہے ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم عرفان خواجہ کے دفاع میں ایڈوکیٹ فرقان خان کو مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے آج لکھنؤ مجسٹریٹ عدالت میں ملزم کے دفاع میں پیش ہوکر عدالت سے ملزم کو کم سے کم دنوں کے لیئے پولس تحویل میں دیئے جانے کی گذارش کی جس پر خصوصی مجسٹریٹ ششیل کمار نے تینوں ملزمین عرفان خواجہ خان، راہل بھولا اور منن یادو کو پانچ دنوں کے لیئے پولس تحویل میں بھیج دیا حالانکہ اے ٹی ایس نے سات دنوں کی پولس تحویل طلب کی تھی۔ ملزمین راہل بھولا اور منن یادو کے دفاع میں صبیح الرحمن بھی عدالت میں حاضر تھے ۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ دوران پولس تحویل ملزمین کو جسمانی اور ذہنی اذیت نہیں دی جائے گی نیزدوران تحویل ملزمین کو کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔