عریانیت ، آوار گی پر وائرس کی شکل میں اللہ کا عتاب

,

   

Ferty9 Clinic

معاشرے میں تیزی سے بگاڑ کا رجحان ، مولانا طارق جمیل کا خطاب ، بعض گوشوں کی تنقید
لاہور ۔ /25 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک نامور پاکستانی عالم نے معاشرے میں بڑھتی عریانیت اور آوارگی کو عالمی وباء کورونا وائرس سے منسوب کرتے ہوئے اسے لوگوں پر اللہ کا عذاب قرار دیا اور کہا کہ انسانوں کو اپنی روش بدلنا پڑے گا ۔ یوں تو مولانا طارق جمیل کا وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں نیشنل ٹیلی ویژن پر خطاب عمومی نوعیت کا ہے ، اس میں نہ مخصوص حکومت کو نشانہ بنایا گیا اور نہ کوئی مخصوص مسلم معاشرے کی بات کی گئی ہے ۔ لیکن بعض گوشوں نے مولانا کے تاثرات پر تنقید کی ہے ۔ انسانی حقوق کے جہدکاروں اور سیول سوسائیٹی کے ارکان نے مولانا جمیل کے ریمارکس کی مذمت کی ۔ وزیراعظم عمران خان /23 اپریل کو کووڈ۔19 کے متاثرین کیلئے فنڈس اکٹھا کرنے کے ایونٹ میں شریک تھے ۔ اس موقع پر مولانا جمیل نے جن کے پاکستان میں بڑی تعداد میں مداح ہیں ، انہوں نے فحش پن اور عریانیت کو عالمی وباء کی شکل میں اللہ کے عذاب کے پس پردہ وجوہات قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کون ہے جو ہماری قوم کی بیٹیوں کو رقص کرارہا ہے ۔ ان کے لباس چھوٹے ہوتے جارہے ہیں ۔ اللہ اس سماج میں عذاب بھیجتا ہے جہاں فحش پن اور عریانیت عام ہوجائے ۔ مولانا کے ان ریمارکس کو خواتین کی بے عزتی پر محمول کیا جارہا ہے، جو اس مسلم اکثریتی ملک کی نصف آبادی ہیں ۔ بیرسٹر ملکہ بخاری پارلیمانی سکریٹری برائے قانون اور انصاف نے ٹویٹ کیا کہ عالمی وباء کے پھیلاؤ کو کبھی بھی اور کوئی بھی حالات میں خواتین کے تقویٰ اور اخلاقیات سے ہرگز نہیں جوڑنا چاہئیے ۔ یہ رجحان خطرناک ہے کیونکہ خواتین/ لڑکیوں کے خلاف پرتشدد جرائم بدستور پیش آرہے ہیں اور ان پر کوئی گرفت نہیں ہورہی ہے ۔