۔2004ء کے کیس میں سنگھل، ترون باروت اور انجو چودھری کیخلاف مقدمہ خارج
گاندھی نگر : سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت نے 2004ء کے عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس میں گجرات پولیس کے 3 مجرم عہدیداروں کو بری کردیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی بھی خارج کردی ہے۔ یہ 3 پولیس عہدیدار جی ایل سنگھل ، تروان باروت اور انجوچودھری ہیں۔ سی بی آئی کے خصوصی جج وپل راول نے گجرات کے 3 پولیس عہدیداروں کی جانب سے داخل کردہ درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہیں ان کے قصور سے بری کردیا ہے۔ یہ تمام 3 آفیسرس فی کس 15000 روپئے کے شخصی مچلکے پر رہا کردیئے گئے۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اس کیس سے انہیں ڈسچارج کرنے کے علاوہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ختم کردی ہے۔ حکومت گجرات نے ان 3 ملزم پولیس عہدیداروں پر مقدمہ چلانے کی منظوری دینے سے انکار کردیا تھا۔ آئی پی ایس آفیسر جی ایل سنگھل، ریٹائرڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ترون بارود اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر انجوچودھری عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس میں بری ہوچکے ہیں۔ ان پر ممبئی سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ عشرت جہاں کے قتل ، مجرمانہ سازش، اغواء اور غیرقانونی طور پر حراست میں رکھنے کے الزامات تھے۔ عشرت جہاں اور ان کے ساتھی جاوید شیخ عرف پرنیش پلائی ، ذیشان جوہر اور امجد علی رعنا کو 15 جون 2004 کے دن احمدآباد کے مضافات میں ایک پولیس انکاؤنٹر کے ذریعہ گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔
