عصر حاضر میں مسلم اتحاد

   

علامہ ڈاکٹر میر زا شبیر علی شیرازی
موجودہ دور میں مسلم اتحاد امت مسلمہ کے لیے ناگزیر ہے، جس کا مقصد باہمی احترام، مشترکہ دفاع، اور فرقہ واریت کا خاتمہ کر کے در پیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کے درمیان وحدت (Unity) اور بھائی چارے کو فروغ دے کر ہی مسلم دنیا اپنے حقوق کا دفاع اور قدرتی وسائل کا صحیح استعمال کر سکتی ہے۔موجودہ دور میں مسلم اتحاد کو امت اسلامیہ کے وقار، بیداری اور ترقی کی ضرورت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ قرآن وسنت پر مینی یہ اتحاد، مشتر کہ اصولوں (توحید، رسالت، قیامت) پر انحصار کرتے ہوئے اور مشترکہ مفادات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، عالم اسلام کے چیلنجوں، تقسیم اور سماجی و سیاسی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کا حل ہے۔
موجودہ دور میں امت مسلمہ کی یکجہتی: تنز ویراتی ضرورت (Strategic Necessity) : اتحاد انحصار سے بچنے اور خود انحصاری حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ طاقت کا عنصر : امت اسلامیہ کا اتحاد ا نہیں دشمنوں کی سازشوں اور تفرقہ بازی سے بچاتا ہے۔ تقسیم کا مقابلہ : مسلمانوں کی تقسیم غالب طاقتوں کی طرف سے کمزوری اور زیادتی کا باعث بنتی ہے۔ یمتی کے اصول: الی رسی (قرآن اور اسلام) کو تھامے رکھنا اتحاد کا محور بتایا گیا ہے۔ بیداری اور خود اعتمادی: اتحاد مسلم اقوام کی بیداری اور اندرونی طاقت پر انحصار کا باعث بنتا ہے۔ شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد: مشترکات پر زور دینا اور فرقہ وارانہ تنازعات سے اجتناب۔
چیلنجز اور حل : میڈیا کا کردار: میڈیا مکالمے اور میل جول کے کلچر کو فروغ دے کر اتحاد میں مدد کر سکتا ہے۔ اشرافیہ کا کردار : اسلامی معاشرے میں اشرافیہ کا فرض ہے کہ وہ شعور بیدار کر کے اتحاد کی بنیاد فراہم کریں۔ اسلامو فوبیا کا مقابلہ : مسلمانوں کے درمیان حقیقی اتحاد دشمنوں کے پروپیگینڈے کا جواب اور اسلام کے حقیقی چہرے کا مظاہرہ ہے۔چنانچہ آج کی ہنگامہ خیز دنیا میں مسلمانوں کا اتحاد کوئی انتخاب نہیں بلکہ اپنی شناخت اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
اتحاد مسلمین: پان اسلام ازم ( الوحدۃ الاسلامیۃ)، ایک واحد وجود میں اسلام کے پیروکاروں کے اتحاد کے لیے ایک سیاسی اور مذہبی نظریہ ہے۔ اس تصور کی جڑیں قرآنی تعلیمات میں ہیں (جیسے آیت وحدت) اور اس کا مقصد غیر ملکی تسلط کا مقابلہ کرنا اور مسلم طاقت کو بحال کرنا ہے۔
مسلم اتحاد کے اصول اور پس منظر : قرآنی جڑیں : سورہ آل عمران کی آیت نمبر 103، مسلمانوں کے درمیان خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور تفرقہ سے بچنے کی دعوت دیتا ہے۔ دفاعی اہداف : مسلمانوں کو غیر مسلموں کے اثر و رسوخ سے بچانے کے لیے ایک دفاعی پالیسی خاص طور پر نو آبادیاتی دور میں سیاسی پان اسلام ازم تشکیل دیا گیا تھا۔ آیت اللہ العظمی بروجردی اور شیخ محمود شلتوت اور سید جمال الدین اسد آبادی جو انیسویں صدی میں اس اتحاد کو فروغ دینے میں سرخیل تھے۔ امام خمینی اور شہید رہبر معظم سید علی خامنہ ای اتحاد کے علمبر دار تھے۔ شیعہ سنی بھائی چارہ: بہت سے نقطہ نظر مشتر کہ چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے شیعہ اور سنی کے بھائی چارے اور مساوات پر زور دیتے ہیں۔
تاریخی پیش رفت یہ تحریک سلطنت عثمانیہ (خاص طور پر عبد الحمید دوم) کے دوران فعال تھی، لیکن پہلی جنگ عظیم کے : بعد کمزور پڑ گئی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد نئی شکل اختیار کرلی۔اس تصور کا حتمی مقصد عالم اسلام کے مسائل کے حل کے لیے ایک واحد قوم کی تشکیل اور مشتر کہ دشمنوں کے خلاف قوت پیدا کرنا ہے۔ بطور خلاصہ ، مسلم امہ کی ترقی اور بقا کے لیے مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو نا ضروری ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے ان اشعار کے ذریعہ فکری اور روحانی شعور کا نہایت پْر سوز طریقہ سے اظہار کیا ہے۔
یارب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرمادے، جو رْوح کو تڑپا دے
اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشاں کو
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شر مادے