عصمت دری کیس:مردہ جسم کے ساتھ جنسی تعلق ریپ نہیں

   

ئی دہلی: نچلی عدالت نے ایک نوجوان کو لڑکی کو قتل کرنے اور کے ساتھ جنسی تعلق کے الزام میں قتل و عصمت دری کا مجرم قرار دیا، لیکن 8 سال بعد کرناٹک ہائی کورٹ نے نوجوان کو قتل کا مجرم قرار دے دیا لیکن عصمت دری کیس میں بری کر دیا۔اس کی وجہ قانون میں ابہام ہے۔ یہ واقعہ 25 جون 2015 کو کرناٹک کے گاؤں میں پیش آیا ۔ رنگاراجو عرف واجپائی نے گاؤں کی ایک 21 سالہ لڑکی کو قتل کیا اور نعش کی عصمت دری کی ۔ 9 اگست 2017 کو، سیشن عدالت نے رنگاراجو کو قتل اور عصمت دری کیس میں مجرم قرار دیا۔ عمر قید و 50,000 روپئے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ زیادتی کے جرم میں 10 سال قید اور 25 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا۔ سیشن کورٹ کے فیصلے کو ملزمان نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ جسٹس بی ویرپا کی قیادت میںبنچ نے کہا کہ اگرچہ آرٹیکل 377 غیر فطری جنسی تعلقات سے متعلق ہے، لیکن یہ نعشوں کا احاطہ نہیں کرتا ۔ اس لیے ٹرائل کورٹ نے سزا سنانے میں غلطی کی۔ ہائی کورٹ نے عصمت دری کے ملزم رنگاراجو کو بری کر دیا، لیکن مرکز کو ہدایت دی کہ وہ 6 ماہ کے اندر قانون میں خامیوں کو دور کرے۔