عصمت ریزی واقعہ سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش

   

واہ ری سیاست !
جوبلی ہلز واقعہ پر تو بی جے پی کا ہنگامہ ۔ نیکلس روڈ و دیگر واقعات پر سانپ سونگھ گیا

حیدرآباد۔/7 جون، ( سیاست نیوز) جوبلی ہلز میں کم عمر لڑکی کی عصمت ریزی کے سنسنی خیز واقعہ کے بعد شہر میں مزید تین اجتماعی عصمت ریزی کی وارداتیں پیش آئی ہیں جن میں ایک یتیم لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی اور دوسرے واقعہ میں دسویں جماعت کی طالبہ کو 5 افراد نے اپنی ہوس کا شکار بنایا جن میں دو نابالغ ہیں جبکہ ایک اور واقعہ میں شادی شدہ خاتون کو نشیلی دوا دے کر اجتماعی عصمت ریزی کی گئی اور ویڈیو تیار کرکے خاتون کو دھمکا کر کئی مرتبہ جنسی استحصال کیا گیا ۔ ان واقعات کے تاخیر سے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس حرکت میں آگئی تاہم نارائن پیٹ میں پیش آئے اجتماعی عصمت ریزی واقعہ میں خاطیوں کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔ جوبلی ہلز واقعہ کی متاثرہ لڑکی کے علاوہ نیکلس روڈ کی متاثرہ لڑکی بھی انٹر کی طالبہ ہے جبکہ کارخانہ علاقہ کی متاثرہ لڑکی دسویں جماعت کی طالبہ ہے تاہم جوبلی ہلز واقعہ پر سیاست جاری ہے ۔ خاطیوں کی گرفتاری کے باوجود بی جے پی ہنگامہ آرائی کررہی ہے۔ واقعہ میں خاطیوں کی گرفتاری اور متاثرہ لڑکی سے انصاف کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ بی جے پی عصمت ریزی واقعہ سے سیاسی فائدہ کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے چونکہ خاطیوں کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے ۔ بی جے پی اس معاملہ میں ٹی آر ایس کو گھیر رہی ہے جبکہ نیکلس روڈ واقعہ میں لڑکی یتیم ہے ۔ اس لڑکی کو دوستی کے دوران سیل فون دیا گیا اور 22 سالہ لڑکے سریش نے محبت کے نام پر لڑکی کو اپنے جال میں پھانس کر نیکلس روڈ پر کار میں اس کی عصمت ریزی کی۔ لڑکی اپنی سہیلیوں کے ہمراہ سالگرہ تقریب میں شرکت کیلئے پہنچی تھی اور اس نے نیکلس روڈ پر موجودگی کا ذکر سریش سے کیا اور سریش وہاں پہنچ گیا۔ تقریب میں شریک افراد کی مصروفیت کا فائدہ اٹھاکر سریش نے لڑکی کو دور لیا گیا اور کار میں عصمت ریزی کی۔ لڑکی نے یتیم خانہ کی نگرانکار سے واقعہ بیان کیا ۔ اس کی شکایت پولیس میں کی گئی۔ جوبلی ہلز طرز پر نیکلس روڈ پر بھی کار میں عصمت ریزی کی گئی واقعہ میں یکسانیت ہے لیکن سیاسی فائدہ جوبلی ہلز واقعہ میں ہے۔ کارخانہ حدود میں دسویں جماعت کی طالبہ کی عصمت ریزی کی گئی اور اس پر کئی دنوں تک زیادتی جاری رہی۔ اس واقعہ میں بھی پانچ افراد بشمول دو نابالغ ہیں جبکہ جوبلی ہلز واقعہ میں بھی تین نابالغ ہیں۔ بی جے پی کی ہنگامہ آرائی سے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سیاست کا ثبوت ظاہر ہوتا ہے۔ دسویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ اس کے ہم جماعت لڑکے کی دوستی ہوئی ۔ لڑکے نے لڑکی کو شکار بنایا اور لڑکی کے ساتھ گذارے وقت کی ویڈیو گرافی کرلی اور ان ویڈیوز کی آڑ میں لڑکی کو دھمکانا شروع کردیا اور اپنے دیگر 4 ساتھیوں کے ہمراہ کئی مرتبہ عصمت ریزی کی۔ اس واقعہ میں بھی جوبلی ہلز کی طرح لڑکی کے والد نے شکایت کی اور کارخانہ پولیس نے ونستھلی پورم اور ایل بی نگر علاقوں سے 5 افراد بشمول دو نابالغ کو گرفتار کرلیا۔ جوبلی ہلز واقعہ پر بی جے پی کے مطالبہ کو دیکھتے ہوئے ان متاثرہ خاندانوں کیلئے بھی انصاف کی آواز اٹھانے بی جے پی سے مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ع