پولیس لائین میں سات گھنٹوں تک تفتیش۔قیامگاہ میں بیڈ روم مہربند کردیا گیا
شاہجہاں پور ( یو پی ) 13 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) قانون کی ایک طالبہ کی جانب سے بی جے پی لیڈر و سابق مرکزی وزیر سوامی چنمیانند کے خلاف عصمت ریزی کے الزام کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے چنمیانند سے آج سات گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی ہے اور ان کی قیامگاہ پر ان کے بیڈروم کو مہربند کردیا ہے ۔ پولیس ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ ایس آئی ٹی جو سپریم کورٹ کے احکام پر تشکیل دی گئی ہے ‘ قانون کی طالبہ کو چنمیانند کی قیامگاہ لے آئی تھی تاکہ اس کی موجودگی میں تحقیقات کی جاسکیں اور شواہد جمع کئے جاسکیں۔ یہ کارروائی آج صبح ہوئی ہے ۔ چنمیانند سے جمعرات کی رات تقریبا سات گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی گئی ۔ یہ تفتیش پولیس لائینس میں ہوئی ہے اور دیویا دھام قیامگاہ پر ان کے بیڈروم کو مہربند بھی کردیا گیا ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سابق مرکزی وزیر سے کہا گیا ہے کہ وہ تحقیقات کی تکمیل تک شاہجہاں پور سے باہر نہ جائیں۔ ان کی قیامگاہ اور اطراف میں بھاری پولیس فورس کو متعین کردیا گیا ہے ۔ یہ طالبہ جس کالج کی طالبہ تھی اسے آج تعطیل کا اعلان کردیا گیا تھا اور انتظامیہ نے اس سلسلہ میں باب الداخلہ پر ہی نوٹس چسپاں کردیا تھا ۔ اس طالبہ نے الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی لیڈر نے تقریبا ایک سال تک اس کی عصمت ریزی کی ہے اور اس کا جنسی استحصال کیا ہے ۔ چنمیانند کی تنظیم کی جانب سے شہر میں کئی کالجس چلائے جاتے ہیں۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے ان دو کالجس کے پرنسپلس سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی ہے جہاں یہ طالبہ تعلیم حاصل کرتی تھی ۔ ایس آئی ٹی کو چہارشنبہ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ چنمیانند کے حامیوں نے ہاسٹل کے روم سے کچھ اہم شواہد ہٹا دئے ہیں اور پولیس نے اس وقت تک ہاسٹل روم کو مہربند نہیں کیا تھا ۔ طالبہ کے والد نے الزام عائد کیا کہ وہاں سے ایک عینک ہٹادی ہے جس میںکیمرہ فٹ کیا گیا تھا ۔ ان کا خیال تھا کہ اس کیمرے میں بی جے پی لیڈر کے خلاف شواہد موجود تھے ۔ طالبہ نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ وہاں کچھ ایسی چیزیں رکھ دی گئی ہیں جن سے اس کی شبیہہ متاثر ہوتی ہے ۔ ایس آئی ٹی نے چہارشنبہ کو چنمیانند کے وکیل اوم سنگھ سے بھی پانچ گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی تھی ۔ یہ پوچھ تاچھ اس الزام کے تحت کی گئی کہ اس طالبہ نے چنمیانند سے پانچ کروڑ روپئے کی مانگ کی ہے ۔ اس طالبہ کو ایک مقامی دواخانہ کو بھی لیجایا گیا جہاں اس کا طبی معائنہ کروایا گیا ۔ ایس آئی ٹی اس طالبہ سے بھی پوچھ تاچھ کرچکی ہے ۔