ملک بھر میں خواتین پرمظالم کے واقعات کیخلاف دہلی ویمن کمیشن کی صدر کی غیر معینہ بھوک ہڑتال
نئی دہلی ۔3ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی ویمن کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال آج اپنے دیگر خواتین ساتھیوں کے ساتھ عصمت ریزی کے خلاف غیر معینہ بھوک ہڑتال پر جنتر منتر پر بیٹھ گئی ہیں ۔ انہوں نے یہ بھوک ہڑتال ملک بھر میں متواتر ہورہے عصمت ریزی کے خلاف شروع کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے گھناؤنی جرائم کے خلاف خاطیوں کو جلد سے جلد سزا دی جائے اور اس کیلئے تیز رفتار کارروائی کرنے کیلئے عدالت کی جانب سے خاطی قرار دینے کے بعد سزا پر عمل آوری کیلئے متعینہ مدت کم سے کم چھ ماہ مقرر کیا جائے ۔ حیدرآباد ویٹرنری ڈاکٹر کی گذشتہ دنوں کی گئی آبرو ریزی اور راجستھان میں چھ سالہ بچی کے ساتھ کی گئی گھناؤنی حرکت کے خلاف سواتی مالیوال کے ساتھ سینکڑوں خواتین نے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کا آغاز کیا ہے ۔ اس موقع پر سواتی نے کہا کہ انہوں نے اس گھناؤنی حرکت پر قابو پانے کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کو سینکڑوں خطوط روانہ کئے ہیں ۔تاہم ابھی تک کسی ایک کا بھی انہیں جواب موصول نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے خلاف نہیں ہیں ، تاہم ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اس معاملہ میں سخت رویہ اختیار کرے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ عصمت ریزی جیسے جرائم کے مرتکب افراد کو پھانسی کی سزا دے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال جب میں اسی مسئلہ پر 10روزہ احتجاجی دھرنا دی تھی تو حکومت نے کمسن بچوں کی عصمت ریزی کے خلاف قانون بناتے ہوئے چھ مہینے کے اندر سزا دینے کی تجویز رکھی تھی مگر افسوس ہے کہ ابھی تک اس قانون پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے یا اسے نافذ العمل نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حوالے سے ہندوستان میں قانون موجود ہے مگر اُس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے یا اسے نافذ نہیں کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بار قانون نافذ کرائے بغیر میں اپنا بھوک ہڑتال ختم نہیں کروں گی، خواہ اس کیلئے مجھے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے ۔ ویمن کمیشن کی سربراہ نے مزید کہا کہ دارالحکومت دہلی میں اگرچہ 66ہزار پولیس آفیسرس اور 45 فاسٹ ٹریک عدالتیں موجود ہیں مگر ہم اس میں اضافہ چاہتے ہیں اور انفراسٹرکچر ، قوانین کی بہتر عمل آوری کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس بارے میں وزیراعظم کو سینکڑوں خطوط لکھے ہیں جس کے جواب میں انہیں کم از کم ہماری حوصلہ افزائی کیلئے یہ کہنا چاہیئے تھا کہ ’’ ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘‘ چونکہ ہم حکومت کے خلاف نہیں ہیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہلی پولیس انہیں جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی اجازت دینے میں ٹال مٹول کرنے کا رویہ اختیار کررہی تھی اور اس کیلئے اجازت دینے سے انکار کررہی ہے ۔ دہلی پولیس دہلی ویمن کمیشن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ہم سے یہ جاننا چاہ رہی تھی کہ احتجاج کی نوعیت کیا ہوگی ، حمل ونقل کے ذرائع کیا ہوں گے ،کتنے افراد اس احتجاجی دھرنے میں حصہ لیں گے ، مگر ہم انہیں بتانا بھی چاہتے ہیں کہ ہم ان کیلئے بھی احتجاج کررہے ہیں چونکہ پولیس عملہ کی تعداد میں کمی ہے اور ان کے پاس وسائل کی بھی کمی ہے جس میں ہم اضافہ کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ سواتی مالیوال کے مطابق پولیس اگرچہ ان کی اجازت نامہ کو مسترد نہیں کیا ہے تاہم وہ ہمیں اس معاملہ میں تعاون نہیں کررہی ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ صبح 5بجے سے پہلے انہیں جنتر منتر سے ہٹا دیں گے ۔