عصمت ریزی کے ملزم بی جے پی ایم ایل اے کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

,

   

ٹرک کی ٹکر سے زخمی متاثرہ لڑکی اور وکیل کی حالت نازک ۔ یہ حادثہ نہیں ہمارے صفائے کی سازش تھی : والدہ کابیان

اناو / لکھنو 29 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش پولیس نے آج بی جے پی کے رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر اور نو دوسروں کے خلاف قتل کا ایک مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ اناو عصمت ریزی کیس کے افراد خاندان نے ان کے خلاف شکایت درج کروائی تھی ۔ ان کا الزام تھا کہ اتوار کو جو کار حادثہ پیش آیا تھا وہ ایک سازش تھی جس میں عصمت ریزی کی متاثرہ خاتون شدید زخمی ہوگئی تھی ۔ علاوہ ازیں اپوزیشن قائدین اور سیول سوسائیٹی ارکان نے بھی سارے واقعہ پر حیرت اور برہمی کا اظہار کیا تھا ۔ کار حاثہ میں 19 سالہ متاثرہ لڑکی زخمی ہوگئی تھی جس کے بعد آج ایف آئی آر درج کی گئی ۔ کار میں لڑکی کے افراد خاندان اور وکیل سفر کر رہے تھے جبا یک تیز رفتار ٹرک نے رائے بریلی میںاسے ٹکر دیدی جس کے نتیجہ میں لڑکی کے دو افراد خاندان ہلاک ہوگئے تھے اور وہ خود اور ان کا وکیل شدید زخمی ہوگئے تھے ۔ سینکر یو پی میں بنگر مئو کے چار مرتبہ کے رکن اسمبلی ہیں اور وہ عصمت ریزی مقدمہ میں ملزم ہیں۔ انہیں گذشتہ سال اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ اس واقعہ پر اپوزیشن قائدین راہول گاندھی ‘ پرینکا گاندھی اور ممتابنرجی نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا ۔ سماجوادی پارٹی کے رکن رام گوپال یادو نے الزام عائد کیا کہ عصمت ریزی کی متاثرہ لڑکی کو ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس پر راجیہ سبھا میں کارروائی کچھ دیر کیلئے ملتوی کی گئی ۔ یادو نے کہا کہ جس وقت کل کار کو ٹکر دی گئی اس وقت متاثرہ لڑکی کو فراہم کردہ سکیوریٹی اس کے ساتھ نہیں تھی ۔ اس کے علاوہ جس ٹرک نے ٹکر دی اس کی نمبر پلیٹ پر نمبر کو بھی چھپا دیا گیا تھا ۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ بی جے پی رکن اسمبلی کے بشمول 15 تا 20 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے جس میں قلت کا الزام بھی شامل ہے ۔ یہ مقدمہ گربکس گنج پولیس اسٹیشن رائے برلی میں درج کیا گیا ۔ پولیس نے بتایا کہ یہ مقدمہ متاثرہ لڑکی کے انکل مہیش سنگھ کی شکایت پر درج کیا گیا ہے ۔ درخواست میں الزام عائدک یا گیا کہ رکن اسمبلی نے ہی اتوار کو کار کو ٹکر دلوائی ہے ۔ انہیں یقین ہے کہ اس ٹکر کا مقصد کار میں سوار تمام افراد کو ہلاک کرنا تھا ۔ اناو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کی والدہ نے کہا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ ہم تمام کا صفایا کرنے کی سازش تھی ۔ متاثرین نے نہ صرف قتل کا مقدمہ درج کرنے کیدرخواست کی ہے بلکہ اس سارے معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ ریاست کے ڈی جی پی ڈی پی سنگھ نے کہا کہ ابتداء میں یہ حادثہ نظر آتا ہے تاہم اس کی تمام پہلووں سے جانچ کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرک کی رفتار تیز تھی اور بارش بھی ہو رہی تھی اس لئے حادثہ کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس دوران دواخانہ کے ڈاکٹرس نے بتایا کہ حادثہ میں زخمی متاثرہ لڑکی اور ان کے وکیل کی حالت تشویشناک ہے اور وہ مصنوعی آلہ تنفس پر ہیں۔ کانگریس قائدین راہول گاندھی ‘ پرینکا گاندھی اور ترنمول سربراہ ممتابنرجی نے اس واقعہ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس سے حکومت کے بیٹی بچاو ۔ بیٹی پڑھاو نعرہ کی قلعی کھل گئی ہے ۔ یہ در اصل ایک دھمکی ثابت ہو رہی ہے ۔