اورنگ آباد میں جاری 9 روزہ ’’ جشنِ اقبال‘‘کا اختتام
اورنگ آباد:9 نومبر کو ہر سال پوری دنیا میں “یومِ اردو” اقبال کے یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے . اورنگ آباد میں امسال ایک نئی روایت کے بطور اور انوکھے و منفرد انداز میں یکم نومبر تا 9 نومبر تک “جشنِ اقبال” منایا گیا۔اور اس دوران 9 دنوں تک پوری کوشش کی گئی کہ اقبال اور انکی فکر و پیغام کو گھرگھر تک پہنچایا جائے ۔’ وارثانِ حرف و قلم ‘ ، ‘ ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن ‘ ، ‘مہاراشٹر عوامی کمیٹی’ ، ‘مراٹھواڑہ مسلم گریجویٹ فورم’ ، ’فیم‘ (FAME)اور آفتاب فلمز کے اشتراک سے منعقدہ اس قابل قدر اور قابل تقلید 9 روزہ جشن کے دوران ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شخصیت، انکی فکر، انکے کلام اور انکے پیغام کو اُجاگر کرنے اور اسے ہر گھر اور ہر اسکول تک پہنچانے کے لیے مختلف نوعیت کے پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ اقبال کے 143 یوم پیدائش پر اقبال جس طرح کی ٹوپی پہنا کرتے اس طرح کی ٹوپیاں خصوصی طور پر بنوا کر پروگرام کے دوران شرکا کو تقسیم کہ گئی اور انھیں بڑے شوق سے پہنا گیا۔پروگرام کے دوران اقبال اور خواتین، اقبال اور نوجوان، اقبال اور بچے ، اقبال اور تاریخ اسلام، جیسے موضوعات پر تقاریر اور مضامین “جشن اقبال 2020 اورنگ آباد” کے نام سے Facebook، پر بنائے گئے پیچ پر شائع کیے گئے ۔ اسی پیچ پر اقبال کے بارے میں مختلف شخصیات کے انٹرویوز، اور گروپ ڈسکشن وغیرہ کوبھی پیش کیا گیا. اسی دوران آن لائن سیمینار، ویبینار، زوم میٹینگس وغیرہ بھی منعقد کی گئیں۔ اورنگ آباد شہر کے اسکولوں میں طلباء نے مختلف پروگرامس ، ڈارامے ، اقبال کے اشعار اور نظمیں وغیرہ پیش کرنے پر مشتمل پروگراموں کا انعقاد کیا گیا جسے ۔ ” جشن اقبال فیس بک پیج ” پر بھی جاری کیا گیا۔ اسکول کے بچوں نے اقبال کے بارے میں تاثرات اور خیالات پر مشتمل پوسٹ کارڈس لکھے اور شہر بھر میں مختلف مقامات پر گھروں پر پہنچ کر اقبال کا کلام یا اشعار سنائے ۔ ان اسکولوں میں سروش اردو اسکول، الھدیٰ اردو اسکول، عالیہ اردو اسکول، مکتب سادات وغیرہ شامل ہیں۔ اسی دوران پروگرام کے دوران خواتیں کے لیے خصوصی پروگرام اور مزاکرے منعقد کیے گئے ۔ جس میں خواتین نے بڑے پیمانے پر حصہ لیا۔ واضح رہے کہ ‘ ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن’ کے مرزا عبدالقیوم ندوی نے یہ تجزویز پیش کی تھی کہ جشن اقبال کو ایک دن کے بجائے 9 دنوں تک منعقد کیا جائے ۔
