علحدہ تلنگانہ تحریک میں بی جے پی کا کوئی رول نہیں: دیاکر راؤ

   


مرکز نے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی، ریاستی وزیر دیاکر راؤ اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد: ریاستی وزیر پنچایت راج ای دیاکر راؤ نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک میں بی جے پی کا کوئی رول نہیں رہا۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد بی جے پی سیاسی طور پر ابھرنا چاہتی ہے لیکن عوام اسے مسترد کردیں گے ۔ دیاکر راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کی ترقی میں کوئی رول ادا نہیں کیا۔ تنظیم جدید قانون کے تحت تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہیں کی گئی اور نہ ہی مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کیلئے فنڈس اور پراجکٹس منظور کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک سے دور رہنے والی بی جے پی کو گریجویٹ ایم ایل سی الیکشن میں ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے ۔ انہوں نے گریجویٹ رائے دہندوں سے اپیل کی کہ نریندر مودی حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں کا جواب دینے کیلئے ٹی آر ایس امیدوار کو کامیاب بنائیں۔ دیاکر راؤ نے ٹی آر ایس امیدوار راجیشور ریڈی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ ارکان پارلیمنٹ بی پرکاش ، ای دیاکر، ارکان مقننہ این نریندر ، کے سری ہری اور دوسروں نے مہم میں حصہ لیا۔ ورنگل ، کھمم اور نلگنڈہ اضلاع پر مشتمل اس حلقہ میں ٹی آر ایس کی انتخابی مہم عروج پر ہے۔ ریاستی وزراء مختلف اسمبلی حلقہ جات کے انچارج مقرر کئے گئے ہیں۔ دیاکر راؤ نے تلنگانہ کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے گزشتہ 6 برسوں میں تلنگانہ کے ساتھ جانبداری کا رویہ اختیار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے ایک لاکھ سے زائد روزگار فراہم کئے جبکہ بی جے پی نے دو کروڑ تقررات اور ہر ایک شخص کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے کا وعدہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعبہ کے اداروں کو امبانی اور اڈانی کے حوالے کیا جارہا ہے ۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے کہا کہ ووٹ مانگنے کیلئے بعض نئے بھکاری منظر عام پر آئے ہیں جو حکومت پر گمراہ کن الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ٹی آر ایس امیدوار راجیشور ریڈی نے گزشتہ میعاد میں عوام کی بھلائی کیلئے کئے گئے اقدامات کی تفصیلات بیان کی اور کہا کہ منتخب ہونے کے بعد وہ طلبہ اور نوجوانوں کی خدمت کیلئے مصروف ہوجائیں گے ۔