12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ فراموش ، گاندھی بھون میں پرچم کشائی ، مہیش کمار گوڑ کا خطاب
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی ۔ نئی ریاست 9 سال مکمل کر کے 10 ویں سال میں داخل ہورہی ہے ۔ مگر تلنگانہ عوام کے توقعات آج بھی پورے نہیں ہوئے ۔ گاندھی بھون میں تلنگانہ کی یوم تاسیس تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ پرچم کشائی کی گئی ۔ اس موقع پر تلنگانہ کانگریس امور کے انچارج مانک راؤ ٹھاکرے ، اے آئی سی سی سکریٹری انچارج ندیم جاوید ، روہت چودھری ، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا سابق ارکان پارلیمنٹ وی ہنمنت راؤ ، بلرام نائیک ، پونم پربھاکر ، انجن کمار یادو ، راجیا ، سریش شٹکار کانگریس کے سینئیر قائد ایس کے افضل الدین صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل ، تلنگانہ پردیش کانگریس تشہیری کمیٹی کے کنوینر سید عظمت اللہ حسینی صدر حیدرآباد کانگریس سمیر ولی اللہ ، ترجمان سید نظام الدین سکریٹریز پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر محمد سلیم ، محمد امتیاز کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے پر ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے کا وعدہ کیا ۔ سونیا گاندھی نے بہت بڑی قربانی دیتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا۔ کے سی آر اپنے وعدے سے منحرف ہوگئے ۔ اس طرح مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے ، دلت کو چیف منسٹر بنانے ، غریب عوام کو ڈبل بیڈ روم مکانات فراہم کرنے ، ہر گھر کو ایک ملازمت فراہم کرنے ، بیروزگاری کا بھتہ دینے کے علاوہ دیگر اور بھی کئی وعدے کرتے ہوئے عوام کو دھوکہ دیا گیا ۔ انتخابات کے بعد ان وعدوں کو فراموش کردیا ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں ۔ کویتا کے شراب اسکام سے اس کا پتہ چل چکا ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد عوام کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ آئندہ چار ماہ انتخابات منعقد ہونے والے ہیں ۔ بی آر ایس کو شکست دینے کے لیے کمربستہ ہوجانے کا کانگریس کیڈر کو مشورہ دیا ۔ کانگریس پارٹی کے برسر اقتدار آنے پر کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک قرض معاف کرنے زرعی کاشت کو اقل ترین قیمت ادا کرنے ، 2 لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے اور بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 4 ہزار روپئے بیروزگاری بھتہ دینے کا اعلان کیا۔۔ ن