علماء و مشائخین کی جانب سے الحاج محمد سلیم کو تہنیت

   

وقف جائیدادوں کے تحفظ پر چیف منسٹر کو مبارکباد، جی او کی اجرائی کا خیرمقدم
حیدرآباد۔ شہر سے تعلق رکھنے والے مختلف علماء و مشائخین کے وفد نے آج صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے حج ہاوز میں ملاقات کی اور تہنیت پیش کی۔ اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن پر پابندی سے متعلق ریاستی حکومت کے احکامات کی اجرائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے علماء و مشائخین نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں کئے گئے وعدہ کے مطابق چیف منسٹر نے جی او ایم ایس 15 کی اجرائی کو یقینی بنایا ہے تاکہ ریاست بھر میں کسی بھی اوقافی اراضی یا جائیداد کا غیر قانونی رجسٹریشن نہ ہوسکے۔ حکومت نے اوقافی اراضیات پر تعمیرات کی اجازت روکنے کیلئے بلدیات، کارپوریشنوں اور گرام پنچایتوں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ علماء و مشائخین نے کہا کہ ایک طرف چیف منسٹر اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں تو دوسری طرف صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم عملی اقدامات کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کررہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ عرصہ میں 6 غیرآباد مساجد کو آباد کرنے پر محمد سلیم کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ کسی بھی صدرنشین نے آج تک اس طرح کا قدم نہیں اٹھایا۔ اس موقع پر محمد سلیم نے کہا کہ حکومت نے اسمبلی میں ریوینو ایکٹ کی منظوری کے موقع پر اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا اعلان کیا اور ریوینو ایکٹ میں وقف کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی جانب سے رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ، ڈسٹرکٹ ریوینو دفاتر اور ضلع کلکٹرس کو اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات روانہ کی جارہی ہیں تاکہ کوئی رجسٹریشن یا غیرقانونی تعمیرات نہ ہوسکے۔ محمد سلیم نے کہا کہ وقف نوٹیفائیڈ جائیدادوں کے موقف کو کسی بھی صورت میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور کسی کو یہ اراضیات فروخت یا لیز پر دینے کا اختیار نہیں ہے۔ وقف اللہ کی امانت ہیں اور بورڈ کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ تمام جائیدادوں کا تحفظ ہو۔ چیف منسٹر کے سی آر حقیقی معنوں میں سیکولر قائد ہیں اور انہوں نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اپنے عہد کو عملی طور پر پورا کیا ہے۔ محمد سلیم نے سکریٹریٹ کے احاطہ میں دونوں مساجد کی دوبارہ تعمیر کے اعلان پر چیف منسٹر سے اظہار تشکر کیا۔ علماء و مشائخین نے سکریٹریٹ کی مساجد کے مسئلہ میں چیف منسٹر کے اعلان کی ستائش کی۔ محمد سلیم سے ملاقات اور تہنیت پیش کرنے والے وفد میں مولانا سید شاہ اسد اللہ حسن الصابری، مولانا سید شاہ فضل اللہ شاہ قادری، مولانا عرفان اللہ شاہ نوری، مولانا محمد مستان علی قادری، مولانا ندیم احمد بخش، مولانا محمد احمد کامرانی، غلام ربانی ( متولی )، مفتی عبدالرحیم قادری، تنویر پاشاہ قادری اور حافظ صابر پاشاہ قادری شامل تھے۔