علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس کارروائی کی تحقیقات کا حکم

,

   

الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے انسانی حقوق کمیشن کو ذمہ داری
اندرون 5 ہفتے رپورٹ کی پیشی کی ہدایت، 17 فروری تک سماعت ملتوی

پریاگ راج7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) شہریت (ترمیمی)قانون وجامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ پر پولیس مظالم کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں احتجاج کے درمیان پھوٹ تشدد کی انکوائری کی ذمہ داری الہ آباد ہائی کورٹ نے حقوق انسانی کمیشن کو سونپی ہے ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گذشتہ دنوں پولیس کی جانب سے کیمپس میں داخل ہوکر طلبہ کے خلاف کاروائی پر عرضی کی آج سماعت کرتے الہ آباد ہائی کورٹ نے پورے معاملے کی جانچ کی ذمہ داری انسانی حقوق کمیشن کو سونپی ۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گوند ماتھر کی بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔کورٹ نے کمیشن کو پانچ ہفتوں کے اندر اپنی رپورٹ داخل کرنے کو کہا ہے ۔عدالت نے آئندہ سماعت 17 فروری طے کی ہے ۔گذشتہ 15 دسمبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف احتجاج کے دوران طلبہ پر پولیس کی کاروائی کے خلاف طالب علم محمد امان خان نے کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔امان نے یونیورسٹی احاطے سے پولیس فورس کو فوراً واپس بلانے اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج سے پورے واقعہ کی جانچ کرانے اور اس کی نگرانی ہائی کورٹ کی جانب سے کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پی آئی ایل میں امان نے کہا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔ طلبہ مولانا آزاد لائبریری کے نزدیک گیٹ کے اندر تھے اور باہر پولیس نے بیریکیٹنگ کر رکھی تھی۔ پولیس طلبہ کو مشتعل کر رہی تھی۔پولیس پر الزام ہے کہ اس نے طلبہ کو گالیاں دیں اور ان کی بے رحمی کے ساتھ پٹائی کی جس میں 100 سے زیادہ طالب علم زخمی ہوگئے ۔