نئی دہلی :کورونا وبا سے پوری دنیا پریشان ہے، اور ہندوستان میں تو حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہیں۔ خصوصاً اتر پردیش کی حالت تشویشناک ہے جہاں نہ صرف کورونا کے نئے مریض بڑی تعداد میں نہ صرف سامنے آ رہے ہیں بلکہ اموات کی تعداد بھی پریشان کرنے والی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاو کو دیکھتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے طلباء سے ہاسٹل خالی کر نے اورگھر لوٹنے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ اس حکم کے بعد طلبا و طالبات کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق اے ایم یو کے اعلیٰ افسران کی جمعرات کو آن لائن میٹنگ ہوئی تھی جس میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ طلبا کو گھر بھیج دیا جائے۔ جمعہ کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر عبدالحمید کے ذریعہ طلبا کو ہاسٹل خالی کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ اے ایم یو انتظامیہ کے اس فیصلے پر طلبا لیڈروں نے سخت اعتراض کیا ہے۔اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر فیض الحسن نے کہا ہے کہ ’’لاک ڈاون کے وقت سے بڑی تعداد میں طلبا مختلف ہاسٹل میں رہ رہے ہیں اور یہاں رہ کر اپنی آن لائن پڑھائی جاری رکھ سکیں گے۔ لیکن گھر واپسی کی صورت میں دیہی مقامات پر رہنے والے طلبا آن لائن پڑھائی نہیں کر پائیں گے۔ دیہی مقامات پر بجلی اور ٹیلی مواصلات سے متعلق کئی سارے مسائل ہیں جس میں طلبا کو پریشانی ہوگی۔‘‘