علی گڑھ: اترپردیش میں علی گڑھ کے تھانہ کوارسی میں گزشتہ روز افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا جب ایک نوجوان کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ 23 سالہ مقتول محمد سلمان مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد گھر واپس ہورہا تھا۔ فرار ہورہے حملہ آوروں میں سے ایک کو راہگیروں نے پکڑ لیا اور اس کی زبردست پٹائی کر دی۔ اطلاع پر پہنچی پولیس نے حملہ آور کو اپنی تحویل میں لے کر ضلع اسپتال میں داخل کرایا جہاں اُس کی حالت نازک ہے۔ اُس کے ساتھیوں کا ابھی پتہ نہیں چل سکا۔ سرکل آفیسر انیل کمار نے بتایا کہ پکڑا گیا نوجوان ملزم محمد شاکر ہے۔ وہ پیشہ سے بیٹری رکشا ڈرائیور ہے اور نشے کا عادی ہے۔ مقتول کے والد کی تحریر پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیق شروع کر دی ہے۔ نماز مغرب ادا کرنے کے بعد سلمان اپنے گھر واپس ہورہا تھا کہ سامنے سے تین نامعلوم حملہ آوروں نے اسے دیکھتے ہی اس پر تابڑ توڑ فائرنگ شروع کر دی۔ سلمان گولی لگتے ہی زمین پر گر گیا۔ اسے فوری جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ سلمان علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں بطور ٹیلر ماسٹر روزانہ کی اُجرت پر پر کام کرتا تھا۔ اس کے والد کی بھی ٹیلرنگ کی اپنی ذاتی دکان ہے۔ علاقہ میں یہ ایک ہفتے میں قتل کی تیسری واردات ہے۔ اعلیٰ افسران نے میڈیکل کالج پہنچ کر سلمان کے اہل خانہ سے تفصیلات دریافت کی۔ مقتول کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد لاش کو اہل خانہ کے حوالے کیا گیا۔ دو پولیس کانسٹبلز کی ڈیوٹی مقتول کے گھر پر لگادی گئی ہے۔