عمارتوں کے انہدام کو روکنے امیت شاہ سے مداخلت کی اپیل

   

Ferty9 Clinic

جی ویویک کی نئی دہلی میں ملاقات، ارم منزل کو ہیرٹیج فہرست سے نکالنے کا الزام
حیدرآباد۔23 ۔ جولائی (سیاست نیوز) اسمبلی اور سکریٹریٹ کی نئی عمارتوں کے لئے موجودہ عمارتوں کو انہدام کا معاملہ مرکزی حکومت سے رجوع ہوچکا ہے۔ جی وینکٹ سوامی فاونڈیشن کے صدر ڈاکٹر جی ویویک سابق رکن پارلیمنٹ نے آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرتے ہوئے یادداشت پیش کی۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ سکریٹریٹ کی موجودہ عمارتوں کے انہدام کے فیصلہ پر روک لگادیں کیونکہ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے تحت 10 برسوں تک حیدرآباد مشترکہ دارالحکومت ہے اور تمام جائیدادوں اور املاک کے نگہبان گورنر ہوتے ہیں۔ ویویک نے وینکٹ سوامی فاؤنڈیشن کی جانب سے کل جماعتی اجلاس میں عمارتوں کے انہدام کے خلاف منظور کردہ قرارداد سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ 1998 ء میں تلنگانہ حکومت نے ہیرٹیج عمارتوں کی فہرست جاری کی تھی جس میں ارم منزل شامل ہے ۔ آرکیالوجیکل سوسائٹی آف انڈیا نے 2015 ء میں ارم منزل کو ہیرٹیج عمارت کے طور پر منظوری دی۔ تاہم ریاستی حکومت نے عمارت کے انہدام کی نیت سے اسے فہرست سے نکال دیا۔ متحدہ آندھراپردیش نے 294 ارکان کے لئے موجودہ اسمبلی استعمال کی جاتی رہی اور ریاستی سکریٹریٹ 10 لاکھ مربع فٹ تعمیری رقبہ پر مشتمل ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ کو صرف پانچ لاکھ مربع فٹ جگہ کی ضرورت ہے۔ واستو اور دیگر وجوہات کے سبب چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سکریٹریٹ کی موجو دہ عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسمبلی اور سکریٹریٹ کی نئی عمارتوں کی تعمیر سے کئی ہزار کروڑ روپئے ضائع ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ایک لاکھ 82 ہزار کروڑ کے قرض میں ڈوبا ہوا ہے اور حکومت نے انتخابی منشور میں عوام سے جو وعدے کئے تھے، ان پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ ایس سی طبقات کو تین ایکر اراضی ، کمزور طبقات کو ڈبل بیڈروم مکانات اور نئی اسکول عمارتوں کی تعمیر کا معاملہ بجٹ کی کمی کے سبب عمل آوری سے قاصر ہے ۔ ان حالات میں مرکزی حکومت کو چاہئے کہ تنظیم جدید قانون کی دفاع 8 پر عمل کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کو عمارتوں کے انہدام سے روک دیں جس سے کروڑہا روپئے عوامی اعتماد کی بچت ہوگی۔ جی ویویک نے کہا کہ کل جماعتی وفد شخصی طور پر نمائندگی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے امیت شاہ کو ملاقات کا وقت مقرر کرنے کی درخواست کی۔ اس موقع پر بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو بھی موجود تھے۔