عمارتوں کے انہدام کے خلاف اپوزیشن کا چلو سکریٹریٹ احتجاج

   

قائدین کی گرفتاریاں،دھرنا چوک پر کشیدگی، کانگریس تلگو دیشم ، سی پی آئی اور دیگر قائدین کی شرکت
حیدرآباد۔25 ۔ جولائی (سیاست نیوز) اسمبلی و سکریٹریٹ کی نئی عمارتوں کی تعمیر کیلئے موجودہ عمارتوں کے انہدام کے فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے چلو سکریٹریٹ احتجاج منظم کیا ۔ پولیس نے قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کرتے ہوئے اس پروگرام کو ناکام بنادیا اور احتجاجیوں کو اندرا پارک سے سکریٹریٹ کی طرف بڑھنے کی کی اجازت نہیں دی گئی۔ جی وینکٹ سوامی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام احتجاج منظم کیا گیا تھا جس میں کانگریس ، تلگو دیشم ، سی پی آئی ، بی جے پی ، تلنگانہ جنا سمیتی اور مختلف عوامی تنظیموں نے حصہ لیا۔ پولیس نے احتیاطی اقدامات کے طور پر کئی قائدین کو گھروں پر محروس کرتے ہوئے پروگرام میں حصہ لینے سے روک دیا۔ بعض قائدین کو اندرا پارک کے راستہ میں گرفتار کرلیا گیا ۔ صدر تلنگانہ جنا سمیتی پروفیسر کودنڈا رام اور وینکٹ سوامی فاؤنڈیشن کے صدر جی ویویک سابق ایم پی کی قیادت میں احتجاجی نعرہ بازی کرتے ہوئے سکریٹریٹ کی طرف روانہ ہوئے لیکن پولیس نے بیریکیٹس لگاکر روک دیا۔ پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی جس کے بعد قائدین کو حراست میں لے لیا گیا ۔ تلگو دیشم کے ریاستی صدر ایل رمنا، رکن پولیٹ بیورو آر چندر شیکھر ریڈی، سابق رکن پارلیمنٹ کے وشویشور ریڈی ، پروفیسر وشویشور راؤ نائب صدر تلنگانہ جنا سمیتی ، کانگریس کے ترجمان ای دیاکر، بی جے پی سابق رکن اسمبلی رام چندرا ریڈی، سماجی جہد کاروں اور دیگر تنظیموں کے قائدین نے پروگرام میں حصہ لیا۔ سکریٹریٹ کی طرف بڑھنے والے احتجاجیوں کو پولیس نے جب روکنے کی کوشش کی صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ احتجاجیوں نے حکومت اور پولیس کے خلاف نعرہ بازی کی۔ سی پی آئی کے ریاستی قائد این بالا مرلی کو ان کی قیامگاہ سے گرفتار کر کے جواہر نگر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔ ایل رمنا اور آر چندر شیکھر ریڈی کو گوشہ محل پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ ایل رمنا نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پولیس کی آڑ میں حکومت چلا رہے ہیں۔ عوامی رقومات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے نئی عمارتوں کی تعمیر کا منصوبہ ہے ۔ رمنا نے کہا کہ عوام حکومت کے فیصلہ پر خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔ آر چندر شیکھر ریڈی نے گورنر سے مداخلت کی اپیل کی اور کہا کہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گورنر کو عمارتوں کا تحفظ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے سکریٹریٹ کی موجودہ عمارتوں اور ارم منزل کی تاریخی عمارت کے انہدام کے فیصلہ سے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ وشویشور ریڈی نے کہا کہ عوامی رقومات کا استعمال عوام کی بھلائی کیلئے ہونا چاہئے۔ اسمبلی اور سکریٹریٹ کی نئی عمارتوں کی تعمیر کا مطالبہ کس نے کیا ہے ۔ تاریخ میں اپنا نام درج کرانے کیلئے کے سی آر یہ حرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس قائدین کو حکومت کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے ۔ وشویشور ریڈی نے کہا کہ فلاحی اسکیمات کے لئے حکومت کے پاس بجٹ نہیں ہے لیکن وہ تعمیری کاموں پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔ پروفیسر وشویشور راؤ نے کہا کہ عدالت میں کئی درخواستوں کے ادخال کے باوجود حکومت عمارتوں کے انہدام کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں غیر جمہوری انداز میں کے سی آر حکومت من مانی فیصلے کر رہے ہے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے عوامی رقومات ضائع نہ کرنے کی ہدایت کا حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان ای دیاکر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے باوجود عوام کو احتجاج کے حق سے محروم کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے اجازت دیئے جانے کے باوجود گرفتاری افسوسناک ہے۔ کانگریس قائد نے کہا کہ عمارتوں کی تعمیر کے مسئلہ پر چیف منسٹر کو کل جماعتی قائدین سے مشاورت کرنی چاہئے ۔ دیاکر نے کہا کہ پولیس حکومت کے اشارہ پر کام کر رہے ہیں۔ لہذا اسے بھی ٹی آر ایس میں ضم کردینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے حصول کے لئے جن قائدین نے جدوجہد کی تھی آج انہیں عوام کو انصاف دلانے کیلئے دوبارہ احتجاجی راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔