اسلام آباد ۔ 8 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان عمران خان جاریہ ماہ ملایشیا کاد ورہ کریں گے تاکہ ملایشیا میں قبل ازیں منعقدہ مسلم ممالک کے ایک اجلاس سے غیر حاضر رہنے کی تلافی ہوسکے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان پر دباؤ پڑنے کے بعد پاکستان نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو گزشتہ سال 19 تا 21 ڈسمبر منعقد ہوئی تھی جس کی میزبانی وزیراعظم ملایشیا مہاتیر محمد نے کی تھی ۔ پاکستان نے لمحہ آحر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دباؤ میں آکر اجلاس میں شرکت سے گریز کیا تھا ۔ کوالا لمپور میں منعقدہ اس اجلاس کو سعودی عرب نے دراصل ایک نئے مسلم بلاک کی تخلیق کے تناظر میں دیکھا تھا جو غیر کارکرد آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کا متبادل ثابت ہوسکتی تھی ۔ سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل نے گزشتہ ماہ پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا تاکہ ملایشیا میں منعقدہ اجلاس میں پاکستان کی عدم شرکت پر پاکستانی قیادت سے اظہار تشکر کیا جاسکے۔
