اسلام آباد : وزیراعظم پاکستان عمران خان اس وقت شدید تنقیدوں کی زد میں ہیں۔ جہاں ان پر نہ صرف اپوزیشن پارٹیاں بلکہ عوام بھی لعن طعن کررہے ہیں کیونکہ کورونا سے متاثر ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی میڈیا ٹیم کے ساتھ ایک شخصی اجلاس کا انعقاد کیا۔ یاد رہیکہ 68 سالہ عمران خان گذشتہ ہفتہ کے روز کورونا پازیٹیو پائے گئے تھے جبکہ انہوں نے صرف چند روز قبل ہی چین کی تیار شدہ سائنوفارم ویکسین لی تھی۔ حیرت کی بات تو یہ ہیکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی اسی روز کورونا پازیٹیو پائی گئی تھیں۔ سائنو فارم ہی واحد ایسی چینی ویکسین ہے جو پاکستان میں دستیاب ہے جبکہ ملک بھر میں ٹیکہ اندازی کا جاری ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ عمران خان نے جب اپنے شخصی میڈیا ارکان کے ساتھ اجلاس کا انعقاد کیا اور اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز نے اپ لوڈ کیں تو جیسے عمران خان پر تنقیدوں کی بارش ہونے لگی۔ مذکورہ اجلاس میں شبلی فراز کے علاوہ دیگر رکن پارلیمان فیصل جاوید نے بھی شرکت کی تھی۔ تصویر میں عمران خان کو ٹریک سوٹ اور جاگر پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ عمران خان ایک صوفہ پر اپنی میڈیا ٹیم سے کچھ فاصلہ پر بیٹھے ہوئے ہیں جن میں مسرس فراز، جاوید، یوسف بیگ مرزا اور دوالفقار عباس بخاری شامل ہیں۔ پاکستان کے کثیرالاشاعت انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق عمران خان نے بنی گالا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس کی صدارت کی تھی۔
اپوزیشن کا الزام ہیکہ عمران خان نے خود ہی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرس (ایس او پیز) کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ بھی یہ جانتے ہوئے کہ ملک میں کورونا کی تیسری مہلک لہر جاری ہے لہٰذا جن لوگوں نے بھی ایس او پیز کی خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف اپوزیشن نے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہیکہ اس واقعہ پر حکومت کا کوئی بھی ترجمان عمران خان کا دفاع نہیں کرسکا کہ عمران خان نے آخر قرنطینہ کی مدت کے دوران اجلاس کا انعقاد کیوں کیا؟ اس معاملہ میں متعدد ترجمانوں نے میڈیا کے سامنے آنے سے بھی گریز کیا۔ سوشیل میڈیا پر عوام کے سوالات کی بوچھار شروع ہوگئی جہاں عمران خان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا قرنطینہ کی مدت کے دوران اجلاس کا انعقاد کرنا ضروری تھا؟ اگر ضروری بھی تھا تو عمران خان دستیاب متعدد ایپس کے ذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ بھی کرسکتے تھے۔ واضح رہیکہ کوویڈ پر کنٹرول کیلئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (NCOC) تشکیل دیا گیا ہے جس کے مطابق کوویڈ کے مریض کو 9 تا 14 دن قرنطینہ میں رہنا لازمی ہے جبکہ عمران خان نے قرنطینہ میں صرف چار روز گزارے اور اس کے بعد اجلاس کی صدارت کی۔ اس سلسلہ میں جب وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور این سی او سی کے صدرنشین اسد عمر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ ایس او پیز کے ذریعہ صرف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے اور اجلاس میں جتنے بھی لوگ شریک ہوئے تھے وہ عمران خان سے کافی فاصلے پر تھے۔ انہوں نے البتہ اس بات کا اقرار کیا کہ قرنطینہ کی مدت کے دوران اس نوعیت کے اجلاس کو منعقد نہ کرنا زیادہ بہتر ہوتا۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی سکریٹری برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب نے کہا کہ ملک کے سربراہ کو عوام کیلئے مثالی بننا چاہئے لیکن یہاں عمران خان نے خود ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوام کو یہ غلط پیغام دیا ہیکہ ایس او پیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ دوسری طرف پاکستان میڈیکل اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہیکہ کورونا سے متاثرہ مریض کو کسی بھی دوسرے شخص سے ملاقات نہیں کرنا چاہئے۔ اجلاس ایک بند کمرے میں ہوا اور بند جگہوں پر کورونا ایک سے دوسرے کو تیزی کے ساتھ متاثر کرتا ہے۔