مولانا فضل الرحمن کا اپوزیشن کے ساتھ میٹنگ ،آئندہ کے لائحہ عمل پر غور
لاہور۔ 4 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)’آزادی مارچ‘ کی قیادت کرنے والے پاکستانی مذہبی سیاستدان مولانا فضل الرحمٰن کی عمران خان حکومت کو مستعفی ہو جانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن بغیر کسی پیش رفت کے گزر گئی اور فضل الرحمٰن اب اپنے اگلے قدم پر غور کر رہے ہیں۔اے پی کے مطابق جمیعت علمائے اسلام کے حکومت مخالف ‘آزادی مارچ‘ کی قیادت کرنے والے مولانا فضل الرحمن وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو اپنی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن کے بغیر کسی پیش رفت کے ہی گزر جانے کے بعد اب اپنے اگلے اقدام پر غور کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن، جو اپنے ہزارہا حامیوں اور اپنی جماعت کے کارکنوں کے ساتھ کئی روزہ مارچ کے بعد ملکی دارالحکومت تک پہنچے تھے، آج پیر کے روز ملکی اپوزیشن کے رہنماؤں سے اس سلسلے میں ملاقاتیں کر رہے ہیں کہ ان کا پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ وفاقی حکومت کے خلاف اگلا قدم کون سا ہونا چاہیے۔جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے اس مذہبی سیاسی رہنما کے حامی اور اس جماعت کے مذہبی مدرسوں کے جو ہزارہا طلبہ اسلام آباد پہنچے تھے، انہوں نے گزشتہ ہفتے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی اور ملک کے دیگر شہروں سے مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد کا رخ کرنا شروع کیا تھا۔اس مارچ کے شرکاء گزشتہ تین روز سے اسلام آباد کے مضافات میں اپنے کیمپ لگائے ہوئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی ہم خیال اپوزیشن جماعتوں کا عمران خان کی حکومت پر الزام ہے کہ وہ اچھی گورننس کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔اس مارچ اور پھر دھرنے کے شرکاء کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ حکومت ملک میں ہر شعبے میں سخت اسلامی قوانین نافذ کرے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت اب تک یہ مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کرتی رہی ہے۔
