نئی دہلی، 3 مارچ (یو این آئی) کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے منگل کو ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہندوستانی نمائندے آیت اللہ عبدالحکیم ماجد الٰہی سے ملاقات کی اور ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر مسعود نے کہا کہ “کسی بھی ملک کے سربراہ کا اس طرح جانا انتہائی افسوسناک ہے ۔ ہندوستان اور ایران کے صدیوں پرانے تعلقات ہیں۔ میں خامنہ ای صاحب کی موت اور جس طرح سے ان کو قتل کیا گیا، اس پر اظہار تعزیت کرنے آیا ہوں۔ میں نے ہندوستان میں ان کے نمائندے سے مل کرخراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران ایرانی نمائندے نے کہا کہ ہندوستان اور ایران کی دوستی تقریباً تین ہزار سال پرانی ہے ۔ مسٹر مسعود نے کہا کہ خامنہ ای صاحب کو ہندوستان کے بارے میں گہری معلومات تھی۔ ہندستان سے ان کا خاص لگاؤ تھا۔ ایران کا مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے نظریے سے خاص تعلق ہے جو انسانیت اور امن کے اصولوں پر مبنی تھا۔
مسٹر مسعود نے مزید کہا کہ یہ ساری پیش رفت انتہائی تشویشناک ہے ۔ ایران ہمارا روایتی دوست رہا ہے جس کے ساتھ ہمارے اہم تجارتی تعلقات ہیں۔ ہماری تیل کی درآمدات کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ ایران سے آتا رہا ہے ۔ ایسے میں جب ہندوستان متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اسرائیل جیسے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے ، تو اسے غیر جانبدارانہ اور متوازن موقف اپنانا چاہیے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی واضح ہونی چاہئے لیکن اس معاملے پر حمایت میں ایک لفظ بھی نہ بولنا حیران کن اور مایوس کن ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کے مضمون کے بعد کانگریس کے لوک سبھا رکن عمران مسعود نے ایران کے سپریم مذہبی رہنما کے ہندوستانی نمائندے حکیم مجید الٰہی سے ملاقات کرکے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔