نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے آج تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے تہاڑ جیل حکام کے بیانات پر حیرانی اور اچنبھا ہوا ہے کہ جس قید خانہ میں سابق جے این یو اسٹوڈنٹ عمر خالد کو رکھا گیا وہ ایسے مقام پر واقع ہے جہاں سے قیدخانہ کی نصف سے کچھ زائد حصہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھی ہے۔ خالد کو فبروری میں پیش آئے شمال مشرقی دہلی فسادات میں منصوبہ بند سازش سے متعلق کیس میں سخت قانون انسداد غیرقانونی سرگرمیاں کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل سیشنس جج امیتابھ راوت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت دی ہیکہ ملزم کو قواعد کے مطابق اپنے قیدخانہ سے باہر قدم رکھنے دیا جائے اور یہ بھی یقینی بنائے کہ عدالت کو مستقبل میں اس طرح کی شکایات وصول نہ ہوں۔ خالد نے جمعرات کو عدالت میں بیان دیا تھا کہ اسے اپنے سیل میں تنہا رکھا گیا، اس سے باہر نکلنے کی ہرگز اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی سے ملاقات کرنے کا موقع دیا گیا۔ خالد نے کہا تھا کہ اسے سیکوریٹی کی آڑ میں سو فیصدی محروسی میں رکھا جارہا ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے آج عدالت کو بتایا کہ ملزم کو دیگر قیدیوں کی طرح تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس پر جج نے جیل عہدیدار سے کہا: ’’مجھے اس پر حیرانی ہے۔ اس بیان کا مقصد کیا ہے؟ یہ کہنا عجیب معلوم ہوتا ہے۔‘‘ خالد کے وکیل نے کہا کہ کیا ملزم زو پارک کا کوئی جانور ہیکہ اسے پنجرے میں قید کردیا گیا ہے جہاں وہ لوگوں کو دیکھ سکتا ہے اور لوگ اسے دیکھ سکتے ہیں لیکن وہ اس سے باہر قدم نہیں رکھ سکتا؟
