عمر عبداللہ جموںو کشمیر کے چیف منسٹر ہونگے

,

   

نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبداللہ کا اعلان ۔ رائے دہندوں سے اظہار تشکر

سرینگر :ہریانہ اور جموں و کشمیر میں انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد اب چیف منسٹر کے انتخاب پر توجہ مرکوز ہو رہی ہے اور جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ نے اعلان کیا کہ پارٹی لیڈر عمر عبداللہ ریاست کے چیف منسٹر ہونگے ۔ ان کی پارٹی کو اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل ہوئی ہے اور کانگریس پارٹی سے اتحاد کرتے ہوئے یہ مقابلہ کیا گیا تھا۔ فاروق عبداللہ نے پارٹی کو اکثریت ملنے کے یقین کے بعد یہ اعلان کیا یہ کہ ان کے فرزند عمر عبداللہ ریاست کے چیف منسٹر ہونگے ۔ جموں و کشمیر میں 10 برس بعد انتخابات ہوئے ہیں۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ دس سال بعد عوام نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ۔ ہماری دعاء ہے کہ ہم ان کی توقعات کو پورا کرنے کے قابل بنیں۔ یہاں اب پولیس راج نہیں ہوگا بلکہ پبلک راج ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ افراد کو جیل سے رہا کرنے کی کوشش کریں گے ۔ میڈیا آزاد ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہندو اور مسلمان طبقات کے مابین اعتماد کی فضا پیدا کرنی ہوگی ۔ سابق چیف منسٹر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ انڈیا اتحاد میں شامل جماعتیں نیشنل کانفرنس کی تائید و حمایت کریں گی تاکہ جموں و کشمیر کیلئے ریاست کے درجہ کو بحال کیا جاسکے ۔ اس سوال پر کہ ریاست کا چیف منسٹر کسے بنایا جائیگا فاروق عبداللہ نے اعلان کیا کہ عمر عبداللہ بنے گا چیف منسٹر ۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد کو جموں و کشمیر میں جملہ 52 نشستیں حاصل ہوئی ہیں اور وہ سادہ اکثریت سے آگے ہے ۔ بی جے پی کو 27 نشستوں پر اکتفاء کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پی ڈی پی کو تین تک محدود کردیا گیا ہے ۔ عمر عبداللہ 2009 سے 2015 تک ریاست کے چیف منسٹر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اظہار تشکر کیا کہ انہوں نے نیشنل کانفرنس کو اقتدار بخشا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ثابت کرے گی کہ وہ ووٹوں کی واقعی حقدار تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جب سارے نتائج سامنے آجائیں گے ان کا جائزہ لینے کے بعد مزید اظہار خیال کیا جائیگا ۔ تاہم جس طرح سے نیشنل کانفرنس کو کامیابی ملی ہے ہم رائے دہندوں کے شکر گذار ہیں۔ عوام نے ہماری توقعات سے زیادہ ہماری تائید کی ہے ۔ اب ہماری کوشش کی ہے کہ ہم یہ ثابت کر دکھائیں کہ ہم ان ووٹوں کے حقیقی معنوں میں حقدار تھے ۔ انہوں نے آج صبح سوشیل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا کہ انہیں امید ہے کہ آج کا دن ان کیلئے اچھا ثابت ہوگا۔ 54 سالہ عمر عبداللہ نے ایگزٹ پولس کو وقت کا زیاں قرار دیا تھا ۔ پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی نے بھی نتائج پر رد عمل میںکہا کہ عوام نے ایک مستحکم حکومت کیلئے ووٹ دیا ہے ۔ ان کی پارٹی کو اب تک کی سب سے کم نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجتھی ہیں کہ ووٹرس نے مستحکم حکومت کیلئے ووٹ دیا ہے اور ان کا خیال رہا ہوگا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد ریاست میں مستحکم حکومت فراہم کرکے بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے میں کامیاب ہوگا ۔

ایک دو دن میں تشکیل حکومت کا دعویٰ :عمر عبداللہ
سرینگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بتایا کہ ایک دو دن میںمقننہ پارٹی میٹنگ طلب کرکے لیڈرکو منتخب کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ارکان اسمبلی کا حمایتی خط ملنے کے بعد راج بھون سے وقت مانگ کر حکومت بنانے کا دعویٰ کیا جائے گا۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہاکہ نیشنل کانفرنس لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ کے بعد اتحادی کے ساتھ لیڈر منتخب کیا جائے گا۔عمر عبداللہ نے کہاکہ آئندہ دو تین دن کے اندر حکومت بنانے کا دعویٰ کیا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ عوام نے فیصلہ سنا دیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور این سی اپنے موقف پر قائم کیا ہے ۔میں عوام کا شکر گزار ہوں کیونکہ جس طرح امیدواروں نے جیت حاصل کی وہ قابل تعریف ہے ۔