ممبئی۔یکم مئی(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے وکٹ کیپر کامران اکمل چاہتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بھائی عمر اکمل ہندوستانی کرکٹر ویراٹ کوہلی، مہندر سنگھ دھونی اور سچن تندولکر سے جانیں کہ انہوں نے کس طرح اپنے کریئر کو ڈھالا۔ عمر پر حال ہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے فکسنگ سے متعلق پیشکش ملنے کی معلومات بورڈ کو نہ دینے کی وجہ سے کھیل کے تمام فارمیٹس سے تین سال کے لئے پابندی عائد کر دی ہے۔گزشتہ کچھ برسوں سے عمرکیلئے کافی سارے مسائل چل رہے تھے جس پر پاکستانی کرکٹ کی دنیا کے لوگ اپنی مایوسی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ کامران نے ایک شو میں کہا ایک خاندان کے طور پر یہ ہمارے لئے بہت مشکل رہا ہے، صرف کووڈ -19 کی وجہ سے نہیں بلکہ جو عمر کے ساتھ ہوا، اس وجہ سے بھی جو میڈیا نے بتایا ہے، ویسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اس نے بات کی معلومات دیر سے دی ہو گی لیکن پی سی بی کو اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے تھا جیسا وہ دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ کرتا ہے۔ کرکٹ ہماری روزی روٹی ہے۔ پرانے انتظام ( کوچ مکی آرتھر کے وقت) کے ساتھ اس نے بہت کچھ جھیلا تھا۔ اسے تھوڑی حمایت کی ضرورت تھی۔ بڑا بھائی چاہتا ہے کہ اس کا چھوٹا بھائی ہندوستانی کھلاڑیوں کو دیکھ کر سیکھے۔ انہوں نے کہا عمرکو میرا مشورہ ہے کہ اسے سیکھنا ہو گا۔ اگر اس نے غلطی کی ہے تو اسے دوسروں سے سیکھنا ہو گا۔ ہم ساتھ میں کھیلنے اور ہماری توجہ صرف کرکٹ پر ہوتی ہے۔ وہ اب بھی نوجوان ہے۔ زندگی میں کافی ساری توجہ بھٹکانے والی چیزیں آتی ہیں، لیکن اسے کوہلی سے سیکھنا چاہئے۔ آئی پی ایل کے ابتدائی دنوں میں کوہلی کچھ مختلف کھلاڑی تھا، لیکن اس نے پھر اپنا برتاو اور طرز رسائی میں تبدیلی کی اور اب دیکھئے وہ کہاں ہے۔ ہمارے بابر اعظم ہیں جو دنیا کے تین بہترین بیٹسمینوں میں شامل ہیں۔ کامران نے کہا دھونی کے طور پر ایک اور مثال ہے۔ انہوں نے کتنے شاندار طریقے سے ٹیم کی کپتانی کی تھی اس کے بعد سچن ہیں جو ہمیشہ تنازعات سے دور رہے ہیں یہ ہمارے سامنے شاندار مثالیں ہیں۔ ہمیں انہیں دیکھنا چاہئے اور سیکھنا چاہئے۔ انہوں نے صرف کھیل پر توجہ دی۔