عنصر تیسری لہر کا اشارہ ہوسکتا ہے Rبڑھتا ہوا

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ۔ 5 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : کئی ریاستوں میں تازہ کوویڈ انفیکشنس میں بتدریج اضافہ اور کوویڈ ایفیکٹو ری پرڈکٹیو نمبر (R) میں اضافہ ، جو بعض میاتھمیٹکل ماڈلس کے مطابق 1.01 سے تجاوز کرچکا ہے ، ایک تیسری لہر کے ابتدائی مراحل کا اشارہ ہوسکتا ہے ۔ چونکہ زیادہ سے زیادہ ریاستوں نے لاک ڈاؤن پابندیوں میں نرمی پیدا کر کے آسانی پیدا کی ہے اس لیے نئے کوویڈ کیسیس میں اضافہ ہورہا ہے ۔ کیرالا میں روزانہ تقریبا 20 ہزار کیسیس ہونے کے ساتھ یہاں کے ہیلت آفیسرس میں یہ اندیشہ اور خوف ہے کہ پڑوسی ریاستوں میں اس کے اثرات سے اس وبا میں تازہ اضافہ ہوگا اور اس طرح کوویڈ کی ایک تیسری لہر کے لیے راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔ آئی آئی ٹی کانپور اور آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ریسرچرس کے سوترا ماڈل میں ، جنہوں نے کوویڈ کی پہل اور دوسری لہر کے دوران کوویڈ 19 پر ان کے میاتھمیٹیکل پراجکٹس کیے ہیں ، اس بات کا اشارہ دیا جاچکا ہے کہ کوویڈ انفیکشنس میں ہورہا یہ بتدریج اضافہ ایک تیسری لہر کی شروعات ہوسکتی ہے ۔ چند دن قبل انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) کے ہیڈ آف ایپیڈیمیالوجی اینڈ کمیونکیبل ڈیسیسزس ، ڈاکٹر سمیرن پانڈا نے بھی پیش قیاسی کی تھی کہ اگست میں پورے ملک میں کوویڈ کی تیسری لہر ہوسکتی ہے تاہم سوترا ماڈل کے معاون ڈیولپر ، آئی آئی ٹی کانپور کے منندرا اگروال نے واضح طور پر کہا کہ تیسری لہر کے دوران کوویڈ انفیکشنس میں اضافہ سے ایک ہلکی لہر ہوسکتی ہے اور اس کی شدت دوسری لہر جیسی نہیں ہوسکتی ہے ۔ آئی آئی ٹی ریسرچرس نے ان کے ماڈلس میں ان حالات پر واضح طور پر روشنی ڈالی جس کے تحت تیسری لہر پہلے کی دو لہروں سے زیادہ شدید ہوسکتی ہے ۔۔