عنقریب نئی برقی پالیسی ، صنعت کاروں کے لیے سہولتیں

   

کسانوں کے قرض معافی کے اقدامات ، ڈپٹی چیف منسٹر ملوبھٹی وکرمارک کا بینکرس کمیٹی اجلاس سے خطاب
حیدرآباد۔19 ۔جون(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد سرمایہ کاروں کی جنت میں تبدیل ہو جائے گا اور حکومت جلد ہی نئی برقی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صنعتکاروں کے لئے سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے آج بینکرس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی اور بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تلنگانہ میں سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو راغب کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں جس میں 24گھنٹے بلا وقفہ برقی سربراہی اور معیاری برقی کی فراہمی کے لئے نئی برقی پالیسی روشناس کروائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جو وعدے کئے گئے ہیں ان تمام وعدوں کو پورا کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور تلنگانہ میں کسانوں کے قرض کی معافی کو یقینی بنایا جائے گا۔ مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے بتایا کہ ریجنل رنگ روڈ کی تعمیر کے بعد تلنگانہ کے متعلق دنیا بھر کا نظریہ تبدیل ہوجائے گا۔ انہوں نے بینکرس سے خواہش کی کہ وہ ریاست میں غریب اور متوسط خاندانوں کو قرض کی فراہمی کو یقینی بنائیں کیونکہ تمام طبقات کی مساوی ترقی کے ذریعہ مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر و فینانس منسٹر نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ریجنل رنگ روڈ کی تعمیر کو تیز کرنے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے آئندہ 5برسوں کے دوران تلنگانہ کی خواتین کو ایک لاکھ کروڑ بلا سودی قرض کی فراہمی کا منصوبہ تیار کیاگیا ہے اور اس منصوبہ پر عمل آوری کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط کی تیاری کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی صنعتی ترقی اور بینکرس کے ذریعہ حاصل کئے جانے والے قرض کو فلاحی اسکیمات میں خرچ کرتے ہوئے ریاست کی جامع ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جو ترجیحی شعبوں کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں سب سے پہلے زرعی شعبہ ہے اس کے علاوہ بینکرس کو رئیل اسٹیٹ اور تجارتی شعبہ کی ترقی کے لئے قرض کی فراہمی کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ مسٹر بھٹی وکرمارک نے بینکرس کو مشورہ دیا کہ وہ ریاست میں فارما سیکٹر کی ترقی کے لئے بھی قرض کی فراہمی کو یقینی بنائیں کیونکہ تلنگانہ میں فارما سیکٹر کی ترقی کے روشن امکانات ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہندستان میں تلنگانہ سب سے زیادہ تیزرفتار ترقی کرنے والی ریاستوں میں شمار کی جاتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ریاست میں زرعی صنعتوں کے علاوہ سافٹ ویئر اور ہارڈ وئیر صنعتوں کا فروغ ہے۔ریاستی وزیر فینانس نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کی مجموعی ترقی کے لئے حکومت کی جانب سے اختیار کردہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بینکرس ان شعبوں کے فروغ کے لئے تعاون کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جاسکتا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے شہری ‘ نیم شہری اور دیہی علاقوں پر مشتمل مختلف کلسٹرس کی تیاری اور ان کو ترقی دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جو کہ ریاست کے تمام علاقوں تک ترقی کے ثمرات پہنچانے کی کوشش ہے۔ حکومت کی جانب سے تلنگانہ میں سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لئے حکومت پرامن ماحول کی فراہمی کے اقدامات کر رہی ہے اور بہتر صیانتی انتظامات کئے جا رہے ہیں۔اس اجلاس سے ریاستی وزیر زراعت مسٹر ٹی ناگیشور راؤ نے خطاب کرتے ہوئے بینکرس کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کی زرعی پالیسی کو نظر میں رکھتے ہوئے ریاست میں کسانوں کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے آگے آئیں اور پام آئیل کی صنعت کو حکومت کی پالیسی کے مطابق فروغ دینے میں تعاون کریں۔3
انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے زرعی سرگرمیوں کو بہتر بنانے اور کسانوں پر موجود قرض کومعاف کرتے ہوئے انہیں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔3