توہم پرستی کے تحت عمارتوں کا انہدام، ہنمنت راؤ کا الزام
حیدرآباد۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر کو عوامی زندگی کے تحفظ سے زیادہ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر سے دلچسپی ہے۔ عوام کی زندگی بچانے کیلئے وینٹلیٹرس، آکسیجن اور ادویات کی فراہمی کو نظر انداز کرتے ہوئے چیف منسٹر اپنے لئے نئے عالیشان سکریٹریٹ کی تعمیر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ کورونا وائرس سے تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد کی عوام پریشان ہے۔ روزانہ علاج نہ ملنے کے سبب اموات واقع ہورہی ہیں لیکن کے سی آر فارم ہاوز میں بیٹھ کر نئے سکریٹریٹ کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ 132 سالہ قدیم سکریٹریٹ کی عمارتوں کو راتوں رات منہدم کرنے کا کام شروع کردیا گیا اور اطراف کے علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ نظام دور حکومت میں یہ تعمیر کیا گیا تھا اور 16 چیف منسٹرس نے یہاں سے حکمرانی کی۔ کسی کو واستو کا خیال نہیں آیا لیکن کے سی آر واستو اور توہم پرستی کا شکار ہوکر قدیم عمارتوں کو منہدم کررہے ہیں۔ کے سی آر کو یقین ہے کہ نئی عمارت کی تعمیر سے ان کا خاندان تلنگانہ پر مزید 10 برسوں تک حکمرانی کرے گا۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ عوامی زندگی سے زیادہ سکریٹریٹ کی عمارت نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ قدیم سکریٹریٹ کا انہدام تلنگانہ عوام کیلئے یوم سیاہ ہے اور عوام کو اسے یاد رکھتے ہوئے آئندہ انتخابات میں کے سی آر کو سبق سکھانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ 500 کروڑ موجودہ حالات میں خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے جبکہ عوام کورونا کے علاج کیلئے ترس رہے ہیں۔